ٹول پلازہ سے یومیہ چار کروڑ کی آمدنی،90 فیصد گاڑیوں کا فاسٹ ٹیاگ استعمال

   

حیدرآباد /19 جنوری ( سیاست نیوز ) ریاست میں قومی شاہرا سے ہو رہی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ فاسٹ ٹیاگ کو لازمی قرار دئے جانے کے بعد ٹول پلازہ سے ہونے والی آمدنی 4 کروڑ روپئے ہر دن تک پہونچ چکی ہے ۔ حالانکہ تین سال قبل ہی مرکزی حکومت نے فاسٹ ٹیاگ کو لاگو کیا تھا تاہم گذشتہ سال فروری سے اس عمل کو لازمی قرار دئے جانے کے بعد سنجیدہ عمل آوری جاری ہے ۔ گاڑیوں پر فاسٹ ٹیاگ سے سہولت کے ساتھ آمدنی میں اضافہ کی سرکاری پالیسی نے بدعنوانیوں پر روک لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ریاست میں قومی اور ریاستی شاہراہ پر گشت کرنے والی تقریباً 98 فیصد گاڑیوں نے فاسٹ ٹیاگ کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ فاسٹ ٹیاگ کے ذریعہ ٹول پلازہ پر ٹول پلازہ کی رقم خود بہ خود آٹومیٹک حاصل کرلی جاتی ہے ۔اس عمل کو لازمی قرار دئے جانے کے بعد فاسٹ ٹیاگ گاڑیوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس نئے نظام کو رائج کرنے کے بعد فاسٹ ٹیاگ کا لیبل نہ لگانے والی گاڑیوں پر زائد جرمانہ یا پھر گاڑیوں کو ٹول پلازہ سے واپس روانہ کرنے کی شرائط عائد کی گئیں ہیں ۔ جس کے بعد فاسٹ ٹیاگ پر عمل آوری میں اضافہ ہوا ہے ۔ ریاست بھر میں 27 ٹول پلازہ پائے جاتے ہیں اور ان مراکز سے وابستہ روزانہ 3 تا 4 کروڑ روپئے کی آمدنی ہو رہی ہے ۔ گذشتہ سال ریاست میں قومی شاہراہ پر 23 ٹول مراکز پائے جاتے تھے ۔ اس تعداد میں 27 تک اضافہ کیا گیا ہے ۔ امکان ہے ٹول مراکز کی تعداد میں مزید 4 تا 5 مراکز کا اضافہ ہوگا ۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی مانی جارہی ہے کہ ریاست شاہراہ کی حیثیت رکھنے والی سڑکوں کو قومی شاہراہ کا درجہ بھی دیا جارہا ہے اور ان سڑکوں پر ٹول مراکز قائم کئے جارہے ہیں ۔ شہر کے نواحی علاقہ کی آوٹر رنگ روڈ سے میدک تک تعمیر کردہ اسٹیٹ ہائی وے نرساپور کے قریب گمڈی دالہ میں ٹول گیٹ قائم کیا گیا ۔ اس طرح شہر کے نواحی علاقہ اپا جنکشن سے کرناٹک کے بیجاپور تک قومی شاہراہ کی تعمیر جاری ہے ۔ اس توسیع اقدام کے تحت چٹامپلی کے قریب نیا ٹول پلازمہ قائم کیا گیا جبکہ جڑچرلہ ، کلواکرتی روڈ پر منور کے قریب ملگ، بھوپال پٹنم 163 نمبر قومی شاہراہ کے راستہ میں جواہر نگر کے قریب ایک اور ٹول پلازہ قائم کیا گیا ہے ۔ ع