حیدرآباد۔/25 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) منفرد ایمبولنس سرویس جسے محمد شہزور خان نے ڈیزائن کیا ہے ، کئی افراد کی جان بچانے میں معاون ثابت ہورہی ہے۔ اس کی خاص بات ٹو وہیلر کے ذریعہ ایمبولنس سرویس کی فراہمی ہے۔ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کے قریب 72سالہ انوپ شدید زخمی حالت میں پڑا تھا مقامی لوگ اس کی مدد کیلئے دوڑے اور ایمبولنس کو طلب کیا گیا۔ لیکن کسی کے پاس بھی ایمبولنس کیلئے ادائیگی کرنے کی رقم نہیں تھی اور نہ ہی ایمبولنس اسے ادائیگی کے بغیر لے جانے آمادہ ہوئی۔ انٹر نیشنل ہیومن رائیٹس آرگنائزیشن کے ڈائرکٹر اور گڈ سماریٹنس انڈیا کے بانی جارج راکیش بابو نے بتایا کہ اس موقع پر پہلی بار ٹووہیلر ایمبولنس سرویس کا استعمال کیا گیا۔ حیدرآباد میں بیت المعمرین اس اختراعی ایمبولنس سے استفادہ کررہے ہیں۔ اس کی مدد سے اب تک کئی جانیں بچائی گئی ہیں۔ شہزور خان کی ایجاد بائیک ایمبولنس شدید زخمی یا نازک حالت والے مریضوں کو منتقل کرنے کیلئے کافی مفید ثابت ہورہی ہے۔ شہزورخان نامپلی میں موٹر سائیکلس میں تبدیلی و ترمیم کا ورکشاپ رکھتے ہیں۔ ٹو وہیلر ایمبولنس میں آکسیجن سلینڈرس بھی لگائے گئے ہیں۔ شہزور خان نے بتایا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ بائیک ایمبولنس 2017 میں بنائی تھی اور ہر بار تبدیلی پر 40 تا50 ہزار روپئے کی لاگت آئی۔ جب این جی او اُن سے رجوع ہوئی تب انہوں نے ایمبولنس کیلئے مخصوص سہولتوں کے ساتھ بائیک میں تبدیلیاں لائیں۔