ٹڈیوں کے حملہ سے پاکستانی معیشت کو چار ارب ڈالرکے نقصان کا خدشہ

   

Ferty9 Clinic

کراچی ۔5 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے خوراک اور زراعت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستان میں ربیع اور خریف کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ جس سے ملک کو رواں سال مجموعی طور پر چار ارب ڈالرز یا 669 ارب پاکستانی روپوں کا نقصان برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔پیر کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے خطرات میں یہ صورتِ حال غذائی تحفظ، مویشیوں کی بقا اور معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرتبہ ملک میں فصلوں کو لاحق خطرات 27 سال میں پہلی بار اس قدر زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹڈی دل کے حملوں سے ربیع کی فصلیں یعنی گندم، چنا، روغنی بیج کو کم عرصے میں شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اندازے کے مطابق ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستان کی 15 فی صد ربیع کی فصل ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ جس سے ملک کو مجموعی طور پر 205 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم اس سے بھی زیادہ نقصان خریف کی فصل میں ٹڈی دل کے حملوں کی صورت میں اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ جس کے نقصانات کا تخمینہ 464 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کل فصل کا 25 فی صد تک ہوسکتا ہے۔عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں ٹڈی دل کی آبادیاں بلوچستان اور ایران کے جنوب مشرقی علاقوں کی جانب رخ کریں گی۔ جو پاکستان اور ہندوستان دونوں کے سرحدی علاقوں میں موجود ریگستانی علاقوں کو زیادہ متاثر کرسکتی ہیں۔