امراض شکم و دیگر بیماریوں سے بچنے کیلئے استعمال ترک کرنا ضروری
حیدرآباد۔18اگسٹ(سیاست نیوز) ٹھیلہ بنڈیوں اور چائینیز کے نام پر فٹ پاتھ پر فروخت ہونے والی اشیائے تغذیہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں اور ان مضر اشیائے خورد و نوش کا استعمال امراض شکم کے علاوہ دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے ان اشیائے خورد و نوش کے استعمال سے ممکنہ حد تک گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں شہروں میں ٹھیلہ بنڈی اور فٹ پاتھ پر فروخت کی جانے والی اشیائے خورد و نوش کے معیار کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ ان اشیائے خورد و نوش کی تیاری کے لئے استعمال کئے جانے والے تیل میں موجود خرابی انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے اور اس سے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ کے علاوہ دیگر کئی شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں جو کہ طویل مدت تک مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ حیدرآباد میں موجود نوجوانوں کے طرز زندگی اور آرام پسندی ان کے لئے بے انتہاء نقصاندہ ہے اور اس پر اس طرح کی اشیائے خورد و نوش کا استعمال ان کی صحت پر مضر اثرات کا سبب بن رہا ہے ۔ کورونا وائرس کے دور میں نوجوانوں کی صحت میں نمایاں تبدیلی ریکارڈ کی گئی تھی اور اب صورتحال تیزی سے تبدیل ہونے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ڈاکٹرس نوجوانوں کو اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانے اور ہلکی ورزش کا آغاز کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے دور کے بعد زندگی معمول پر آنے کے دوران جو شکایات اور نوجوانوں میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے ان میں سب سے اہم امراض شکم اور ہاضمہ کی خرابی کے علاوہ دیگر امراض شامل ہیں اسی لئے نوجوانوں کو فوری اثر کے ساتھ ورزش اور چہل قدمی کے علاوہ ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لئے کوششوں کو آغاز کرنا چاہئے تاکہ انہیں کوئی مستقل امراض شکم کا سامنانہ کرنا پڑے اور ان کے ہاضمہ میں بہتری برقرار رہے۔ ہاضمہ کی خرابی اور جسمانی کثرت میں کمی کے سبب امراض شکم کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہاہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بیشتر نوجوانوں نے ورزش کرنی بند کردی تھی اور ان کے طرز زندگی میں بھی نمایاں تبدیلی ریکارڈ کی جانے لگی تھی لیکن اب جبکہ صورتحال معمول پر آرہی ہے تو ایسی صورت میں غیر صحتمند غذاؤں کا استعمال کے علاوہ ورزش نہ ہونے کے سبب امراض شکم کے ساتھ دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں اسی لئے طرز زندگی میں تبدیلی کے علاوہ ہلکی ورزش کو لازمی طور پر شروع کرنے کی صلاح دی جارہی ہے۔M
