دو سال تک ڈاٹا کی حفاظت کمپنیوں کے لئے تکلیف دہ، قانون میں ترمیم کے بعد احکامات کی اجرائی
حیدرآباد۔26 ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت ہند کے محکمہ ٹیلیکام نے کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق تمام ٹیلیکام کمپنیوں کو اب اپنے صارفین کی جانب سے کئے جانے والے فون کالس اور استعمال کئے جانے والے انٹرنیٹ کی تمام تر تفصیلات 2 سال تک محفوظ رکھنی ہوں گی۔ان ترامیم میں ٹیلیکام کمپنیوں کو کہا گیاہے کہ وہ اپنے صارفین کی جانب سے استعمال کئے جانے والے انٹرنیٹ بشمول آئی پی ایڈریس کے علاوہ استعمال کی جانے والی ویب سائٹس ‘ ای۔میل لاگس ‘ موبائیل فون ایپ کے ذریعہ کئے جانے والے فون کالس کی تمام تفصیلات 2 سال تک محفوظ رکھیں اور اگر 2 سال کے بعد حکومت کی جانب سے کسی کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے درخواست نہیں دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ان تفصیلات کو ضائع کیا جاسکتا ہے لیکن 2سال کی مدت کے دوران اگر حکومت کسی صارف کی تفصیلات طلب کرتی ہے تو ایسی صورت میں کمپنیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ تفصیلات فراہم کرے۔ ٹیلیکام کے موجودہ قوانین کے مطابق ٹیلیکام کمپنیوں کے لئے یہ لازمی تھاکہ وہ یہ تمام تفصیلات ایک سال کی مدت تک محفوظ رکھے اور ایک سال گذرنے کے بعد اسے ضائع کردیں لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے اس مدت میں ایک سال کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ٹیلیکام صارفین کا ڈاٹا شخصی تفصیلات ہیں اور شخصی تفصیلات کو 2سال تک محفوظ رکھنے کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے شہریوں پر نظر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس با ت کو یقینی بنایا جا رہاہے کہ ٹیلی کام صارفین اپنے فون یا انٹرنیٹ کے ذریعہ کس طرح کا مواد دیکھ رہے ہیں اور ان کی دلچسپیاں کیا ہیں ! اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ٹیلیکام کمپنیوں کو ڈاٹا محفوظ رکھنے کے لئے کہا جانا ٹیلیکام کمپنیوں کے لئے تکلیف کا باعث تصور کیا جا رہاہے کیونکہ صارفین کی اتنی بڑی تعداد کے تفصیلی ڈاٹا بالخصوص انٹرنیٹ کے استعمال‘ یوٹیوب کے استعمال‘ ای۔میل‘ انٹرنیٹ کالس اور دیگر تفصیلات کو دو سال تک محفوظ رکھنے کیلئے ٹیلیکام کمپنیوں کو کافی بڑے ڈاٹا اسٹوریج حاصل کرنے ہوں گے ۔ محکمہ ٹیلیکام کے عہدیداروں نے بتایا کہ یہ احکام کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ یہ تمام تفصیلات محفوظ رکھنا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے لیکن اب ڈاٹا کو ایک سال کے بجائے دو سال تک محفوظ رکھا جارہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر حاصل کیا جاسکے۔م