دریائے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ سے ناانصافی، مرکز کی خاموشی پر ہریش راؤ کی تنقید
حیدرآباد 8 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے دریائے کرشنا کے پانی کی نگرانی کے لئے ٹیلی میٹرس نظام کے قیام میں تاخیر پر ریاستی و مرکزی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے الزام عائد کیاکہ ٹیلی میٹرس نصب کرنے کے لئے 4.18 کروڑ روپئے مختص کرنے کے باوجود جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔ جس سے آندھراپردیش کو کرشنا کے پانی کے غیر قانونی استعمال میں فائدہ پہونچ رہا ہے۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ جون 2016ء میں کے آر ایم بی کی میٹنگ میں پہلے مرحلہ میں 18 مقامات پر ٹیلی میٹری آلات نصب کرنے کا فیصلہ ہوا تھا مگر افسوس کہ اب تک اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انھوں نے اسے تلنگانہ کے پانی کے حقوق کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیا۔ انھوں نے سوال اُٹھایا کہ اگر آندھراپردیش حکومت KRMB کے فیصلوں کی خلاف ورزی کررہی ہے تو مرکز خاموش کیوں ہے؟ مرکز کی عدم کارروائی تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ ہریش راؤ نے کہاکہ KRMB کو تلنگانہ کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا چاہئے تھا مگر ریاستی حکومت کی سستی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے معاملہ کو لٹکایا جارہا ہے۔ انھوں نے مسئلہ کو زیر سماعت ہونے کے بہانے کو ناقابل قبول قرار دیا کیوں کہ ماضی میں سپریم کورٹ میں کیس کے باوجود 18 مقامات پر ٹیلی میٹرس نصب کئے گئے تھے۔ انھوں نے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر فنڈس کی وصولی عمل میں لائی جائے۔ ٹیلی میٹرس کے قیام کو تیز کیا جائے اور کے ایم آر بی کے خلاف باضابطہ شکایت درج کی جائے تاکہ مزید وقت ضائع نہ ہو۔ انھوں نے زور دے کر کہاکہ ٹیلی میٹرس کی تنصیب میں دانستہ غفلت قابل مذمت ہے اور اس کے نتیجہ میں تلنگانہ کو ناقابل تلافی نقصان پہونچ رہا ہے۔2
