ٹیم انڈیا کا نعرہ دینے والی مرکزی حکومت نے تلنگانہ سے انصاف نہیں کیا

   

تلنگانہ عوام بی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ۔ چیف منسٹر کے سی آر کا انتخابی جلسوں سے خطاب

حیدرآباد /24 نومبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے سی آر نے عوام کی خوشحالی اور ریاست کی ترقی کیلئے تیسری مرتبہ بی آر ایس کی کامیابی کو یقینی بنانے کی عوام سے اپیل کی ۔ کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو کرناٹک کی طرح دھوکہ کا انتباہ دیا ۔ چیف منسٹر نے آج اسمبلی حلقہ جات منچریال ، راماگنڈم ، ملگ اور بھوپال پلی میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے امیدوار بھی عوام کے درمیان پریشان ہوگئے ہیں ۔ حکومت نے جو کام کیا وہ بھی اس سے متاثر ہیں اور ہماری تائید پر زور دے رہے ہیں کامیاب ہونے پر بی ار ایس میں شامل ہونے کا تیقن دے رہے ہیں ۔ تاہم بی آر ایس ریاست میں کسی کی تائید کے بغیر حکومت تشکیل دے گی ۔ رائے دہی سے قبل بی آر ایس کامیاب ہوچکی ہے ۔ رائے دہی صرف ضابطہ کی کارروائی ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی دوسرے اور تیسرے مقام کیلئے مقابلہ کر رہی ہے ۔ حکومت کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں ۔ 14 سال تک تلنگانہ کی کامیاب تحریک چلائی گئی ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 10 سال میں تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے اقدامات کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 30 نومبر کو ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہوجائے گا ۔ 3 نومبر کے نتائج میں بی آر ایس کامیابی حاصل کریگی ۔ بی آر ایس حکومت میں سماج کے تمام طبقات سے انصاف کیا گیا ۔ آئندہ پانچ دن عوام ان کا ساتھ دیں اور بی آر ایس حکومت تشکیل دینے کے بعد وہ آئندہ 5 سال عوام کو دیں گے ۔ ترقیاتی کاموں میں تیزی لائیں گے اور موجودہ فلاحی اسکیمات کے علاوہ نئی اسکیمات روشناس کرائیں گے ۔ عوام کو 400 روپئے میں پکوان گیس سربراہ کرے گی ۔ خواتین کو ماہانہ 3000 روپئے حاصل ہوگی ۔ 5 لاکھ روپئے تک مفت لائف انشورنس حاصل ہوگا ۔ راشن شاپس پر باریک چاول سربراہ کیا جائے گا ۔ تلنگانہ کے 6 گیارنٹی پر کانگریس عمل نہیں کرے گی ۔ صرف سیاسی فائدے کیلئے کانگریس عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ ۔ کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو تمام فلاحی اسکیمات ختم ہوجائیں گی ۔ جو وعدے کر رہی ہے اس کو پورا کرنے میں ناکام ہوجائے گی۔ امن خطرے میں پڑے جائے گا ۔ پھر فسادات ہونگے اور کرفیو کی نوبت آئے گی ۔ ریاست کے اثاثہ جات کو خطرہ لاحق ہوجائے گا ۔ انہیں 24 گھنٹے برقی چاہئے یا تین گھنٹے برقی چاہئے ۔ بی آر ایس کے 10 سال دور حکومت میں سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے ۔ اقلیتوں کی ترقی کیلئے 10 سال میں 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ کانگریس حکومت میں ایک ہزار کروڑ روپئے بھی خرچ نہیں کئے گئے ۔ لاء اینڈ آرڈر پر خصوصی توجہ دی گئی ۔ وہ جب تک زندہ ہیں تلنگانہ سیکولر ریاست رہے گی ۔ چیف منسٹر نے مرکز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹیم انڈیا کا نعرہ دیا گیا مگر تلنگانہ سے انصاف نہیں کیا گیا ۔ زرعی موٹرس کو برقی میٹرس نہ لگانے پر تلنگانہ کو 25 ہزار کروڑ روپئے کے فنڈز روک دئے گئے ۔ ن