حیدرآباد :۔ ٹینک بینڈ اب خوبصورتی کا ایک نیا منظر پیش کررہا ہے ۔ یہ شہر میں ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے ۔ حسین ساگر اور ٹینک بینڈ جانا مقامی افراد اور سیاحوں کے لیے خوشگوار احساس ہوتا ہے ۔ 2.2 کلومیٹر طویل ٹینک بینڈ روڈ پر جو حیدرآباد اور سکندرآباد کو ملاتی ہے ۔ وار ٹرافی ، تلگو کلچر کی اہم نمائندہ شخصیتوں کے مجسمے ہیں ۔ جس سے حیدرآبادی عوام کی جذباتی وابستگی ہے ۔ ٹینک بینڈ کو نظامس کی جانب سے سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دیا گیا تھا ۔ حالیہ تاریخ میں اس وقت کے چیف منسٹر آنجہانی این ٹی راما راؤ نے اس کو فروغ دینے پہل کرکے لینڈ اسکیپس کو ڈیولپ کیا تھا اور تلنگانہ کلچر کی اہم شخصیتوں کے مجسمے نصب کروائے تھے جس سے تلنگانہ کے کلچر کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اب 35 سال بعد وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے ٹینک بینڈ کو خوبصورت بنانے اور اسے پرکشش مقام کے طور پر فروغ دینے ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کیلئے عہدیداروں کو ہدایات جاری کئے ۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (HMDA) نے اس اسٹریچ پر مرمتی کام انجام دئیے اور اس کی تزئین نو کی ۔ ایک نئے انداز سے خوبصورت بنانے کے بعد اس 2.2 کلو میٹر روڈ پر ایسی کشش پیدا ہوگئی ہے جس سے زیادہ لوگوں کی آمد متوقع ہے ۔ اسٹریٹ فرنیچر ، کیوسک اور ڈیکوریٹیو لائٹنگس ، آرنمنٹل لائٹس ، اسٹون بینچس ، فلیمڈ گرو نائٹ کے ساتھ فٹ پاتھس سے تاریخی ٹینک بینڈ کی خوبصورتی اور شان میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے ٹینک بینڈ روڈ کے دونوں جانب اسے خوبصورت بنانے کے کام شروع کئے گئے تاکہ اس کے منظر کو خوبصورت بنایا جائے اور شہریوں کے لیے سہولتیں پیدا کی جائیں ۔ یہ کام 14.50 کروڑ روپئے مصارف سے کئے جارہے ہیں ۔ اس کی مرمت اور تزئین نو کے کاموں کے بعد شہریوں سے اس سلسلہ میں فیڈ بیاک طلب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ٹوئیٹ کیا کہ ’ ٹینک بینڈ کی تزئین نو کیے جانے کے بعد یہ آپ کو کیسا نظر آرہا ہے ؟ اس سلسلہ میں آپ اپنی تجاویز اور مشورے دیں ۔ کام اب بھی جاری ہے اور جلد مکمل ہوگا ‘ ۔ اس ٹوئیٹ پر کئی لوگوں نے اپنی تجاویز اور مشورے دئیے اور کام کی ستائش کی ۔۔