30 لاکھ کا تاوان طلب، لیٹر پر اللہ اکبر کا نعرہ،3 افرادگرفتار
کانپور: اتر پردیش کے کانپور سے ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔جہاں ایک 17 سالہ معصوم لڑکے کش گار کا اغوا کرتے ہوئے اس کا قتل کر دیا گیا۔اس لڑکے کے والد ٹیکسٹائلس کے بڑے بیوپاری ہیں سے اغواء کنندوں نے 30 لاکھ روپئے کے تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک لیٹر بھی روانہ کیا تاکہ اس معاملہ کو اغواء اور قتل کا رنگ دیا جائے۔یہاں سب سے قابل ذکر بات یہ ہیکہ مقتول لڑکے کے باپ کو لکھے گئے لیٹر میں ’’ اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لکھتے ہوئے بطور تاوان 30 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس معاملہ میں اترپردیش پولیس کی ستائش کی جا رہی ہیکہ اس نے تیز رفتار کارروائی اور کامیاب تحقیقات کے ذریعہ طالب علم کے قتل کے الزام میں ٹیچر،اس کے عاشق اور ایک دوست سمیت تینوں کو گرفتار کرلیا۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اس لڑکے کو جو 10 ویں جماعت کا طالب علم تھا،پربھات شکلا جوکہ لڑکے کی ٹیوشن ٹیچر رچیتا شکلا کا عاشق ہے(ایک اطلاع میں منگیتر بتایا جارہا ہے) ایک اسٹور روم میں لایا تھا۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد پولیس نے کہا کہ پربھات لڑکے کا اس کے گھر سے اسٹور روم تک پیچھا کررہا تھا۔پولیس کا کہناہیکہ لڑکے اور پربھات کو ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔اور پربھات تقریباً 20 منٹ بعد باہر آتا ہے،لیکن لڑکا اس کے ساتھ نہیں آتا۔ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر پولیس کا کہناہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اور کمرے میں داخل نہیں ہوا۔اس کے بعد ملزم پربھات شکلا اپنے کپڑے بدلتا ہے اور لڑکے کے اسکوٹر پر جاتا ہوا نظر آتا ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں پربھات شکلا،رچیتا شکلا 21 سالہ اور ان کے دوست آرین کو گرفتار کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے کے افراد خاندان کو ایک خط بھی ملا تھا جس میں تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لیکن ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ خط پہنچانے سے قبل ہی لڑکے کو قتل کر دیا گیا تھا۔دھمکی کا خط توجہ ہٹانے کا ایک حربہ تھا۔لیکن قتل کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔کانپور میں ٹیکسٹائل بزنس مین کے بیٹے کو اغوا کرنے کے بعد روانہ کردہ تاوان کے خط میں انہوں نے ’’ اللہ اکبر‘‘ لکھا اور رہائی کیلئے 30 لاکھ کا مطالبہ کیا کانپور پولیس سے پوچھا گیاکہ انہوں نے “اللہ اکبر‘‘ کیوں لکھا تو پولیس نے کہاکہ یہ پولیس کی توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا تھا۔پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خط میں ہاتھ کی لکھائی پربھات شکلا کی تحریر سے ملتی ہے۔نیوز 24 کی رپورٹ کے مطابق مقتول طالب علم کشاگرا کو اس کی ٹیچر رچیتا نے ٹیوشن کیلیے بلایا تھا۔بعدازاں ٹیچر نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ مل کر اس لڑکے کا قتل کر دیا۔اب سوشل میڈیا پر پوچھا جارہا ہیکہ دنیا اور ملک کے کسی بھی حصہ میں پیش آنے والیجرائم کے ہر واقعہ اور دھماکوں کے فوری بعد صرف مسلمانوں کو نشانہ بنائیجانے کا جواز کیا ہے؟کیوں ہر معاملہ کو تحقیقات سے قبل مسلمانوں سے جوڑ کر نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کیوں حقائق کے سامنے آنے کے بعد بے شرمی کے ساتھ دوبارہ وہی کام کیا جاتا ہے۔؟