ٹیچنگ ہاسپٹلس میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی تنخواہوں میں اضافہ

   

سرکاری احکامات کی اجرائی ، یکم جنوری 2016 سے نظر ثانی شدہ تنخواہوں پر عمل
حیدرآباد :۔ سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجس میں تدریسی شعبہ کے عملہ کی تنخواہوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے ۔ 7 ویں سنٹرل پے کمیشن فارمولہ کے تحت تنخواہوں پر نظر ثانی کا سرکلر منگل کو جاری کیا گیا ہے ۔ اضافہ شدہ تنخواہوں پر یکم جنوری 2016 سے عمل آوری ہوگی ۔ اس فیصلہ سے متعلق احکامات ستمبر 2020 میں ہی جاری ہوئے تھے ۔ مگر عمل آوری سے متعلق احکامات گریجویٹ حلقوں کے کونسل انتخابات سے چار دن پہلے حکومت نے جاری کئے ہیں ۔ مرکزی حکومت نے 2006 میں ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کی تھی ۔ میڈیکل و ڈینٹل لکچررس کے لیے اس پر 2010 سے عمل آوری ہوئی تھی ۔ دوبارہ 2016 میں ساتویں پے کمیشن میں تنخواہوں پر نظر ثانی ہوئی تھی ۔ 2017 سے مرکزی حکومت کے ملازمین کے لیے اس پر عمل آوری ہورہی ہے ۔ یونیورسٹیز کے لکچررس کو 2019 سے عمل آوری ہورہی ہے ۔ سرکاری ٹیچنگ ہاسپٹلس میں خدمات انجام دینے والے لکچررس کو ستمبر 2020 سے عمل آوری کے لیے جی او جاری کیا گیا ہے ۔ تاہم اس جی او میں لکچررس کی زمرہ بندی میں کس کو کتنی تنخواہ دی جائے اس کی وضاحت نہیں ہوئی تھی ۔ ساتویں پے کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری سے ریاست کے 9 گورنمنٹ ٹیچنگ کالجس میں خدمات انجام دینے والے 2500 لکچررس کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا ۔ نئے جی او کے لحاظ سے سوائے حیدرآباد کے تمام اضلاع کے میڈیکل کالجس میں خدمات انجام دینے والے اسسٹنٹ پروفیسرس کی تنخواہوں میں 70 ہزار تا 86 ہزار روپئے تک تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اسوسی ایٹ پروفیسرس کی تنخواہوں میں 84 ہزار سے ایک لاکھ روپئے تک اضافہ ہوا ہے ۔ تین سال مکمل کرنے والے اسوسی ایٹ پروفیسرس کی تنخواہوں میں 1.24 لاکھ تا 1.60 لاکھ روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ پروفیسرس کی تنخواہوں میں 1.30 لاکھ سے 1.80 لاکھ تک اضافہ ہوا ہے ۔ ایڈیشنل ڈی ایم او ، پرنسپلس ، سپرنٹنڈنٹس کے لیے انتظامی امور کے لیے 10 ہزار تا 12 ہزار مختص کئے گئے ہیں انتظامی امور کے لیے پہلی مرتبہ معاوضہ دیا جارہا ہے ۔۔