حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے بعد پیدا شدہ حالات سے پریشان ٹیکسی ڈرائیورس کے مسائل میں کمی لانے کے لئے اقدامات کے بجائے ان کے لئے بندلہ گوڑہ آرٹی او دفتر میں مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں اور ٹیکسی پلیٹ گاڑیوں کو خانگی پلیٹ کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ٹیکسی ڈرائیورس کو اپنی گاڑیوں کو کم از کم خانگی پلیٹ میں تبدیل کرتے ہوئے فروخت کرنے کے بعد اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیورس جو اپنی گاڑیوں کے مالک ہیں لاک ڈاؤن کے بعد سے خراب حالات کے سبب اپنی گاڑیوں کو خانگی گاڑیوں میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں فروخت کرنے کے خواہاں ہیں لیکن بندلہ گوڑہ آرٹی او دفتر میں عہدیداروں کا من مانی اور رشوت کے چلن کے سبب ٹیکسی ڈرائیورس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آر ٹی اے سے متعلق خدمات انجام دینے والوں کے مطابق دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے دیگر آرٹی او دفاتر میں قانون کے مطابق درکار دستاویزات اور پرمٹ واپس کئے جانے پر ان کی گاڑیوں کے نمبر پلیٹ تبدیل کئے جا رہے ہیں لیکن بندلہ گوڑہ آرٹی او دفتر میں بدعنوان عہدیدارو ںکی من مانی کے سبب پرانے شہرسے تعلق رکھنے والے ڈرائیورس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔گذشتہ تین ماہ سے آرٹی او دفتر بندلہ گوڑہ کے چکر کاٹ رہے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کسی بھی آرٹی او دفتر میں ان مسائل کا سامنا نہیں ہے لیکن بندلہ گوڑہ میں عہدیداروں کی جانب سے درخواستوں کو مسترد کیا جا رہاہے یا پھر زیر التواء رکھتے ہوئے ڈرائیورس کو ہراساں کیا جا رہاہے جبکہ ڈرائیورس معاشی مشکلات کا شکارہونے کے بعد اپنی گاڑیوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔گاڑیوں پر ٹیکسی پلیٹ ہونے کے سبب ان کی گاڑیوں کی فروخت آسان نہیں ہورہی ہے اسی لئے وہ اپنی گاڑیوں کی ٹیکسی پلیٹ کو خانگی پلیٹ میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ آرٹی او دفتر
کے عہدیداروں سے رابطہ کی کوشش میں ناکامی کے بعد دفتر میں خدمات انجام دینے والے ایک ملازم نے نام کا انکشاف نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکسی پلیٹ سے خانگی پلیٹ کرنے کیلئے عہدیداروں کی جانب سے موٹی رقم کا مطالبہ کیا جا رہاہے اور کئی ڈرائیورس مسلسل بے روزگار ہونے کے سبب مطلوبہ رقم ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لئے ان کی درخواستوں کو زیر التواء رکھا جا رہا ہے۔م
صبنڈلہ گوڑہ آر ٹی او دفتر میں عہدیداروں کی من مانی، ڈرائیورس پریشان حال
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے بعد پیدا شدہ حالات سے پریشان ٹیکسی ڈرائیورس کے مسائل میں کمی لانے کے لئے اقدامات کے بجائے ان کے لئے بندلہ گوڑہ آرٹی او دفتر میں مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں اور ٹیکسی پلیٹ گاڑیوں کو خانگی پلیٹ کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ٹیکسی ڈرائیورس کو اپنی گاڑیوں کو کم از کم خانگی پلیٹ میں تبدیل کرتے ہوئے فروخت کرنے کے بعد اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیورس جو اپنی گاڑیوں کے مالک ہیں لاک ڈاؤن کے بعد سے خراب حالات کے سبب اپنی گاڑیوں کو خانگی گاڑیوں میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں فروخت کرنے کے خواہاں ہیں لیکن بندلہ گوڑہ آرٹی او دفتر میں عہدیداروں کا من مانی اور رشوت کے چلن کے سبب ٹیکسی ڈرائیورس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آر ٹی اے سے متعلق خدمات انجام دینے والوں کے مطابق دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے دیگر آرٹی او دفاتر میں قانون کے مطابق درکار دستاویزات اور پرمٹ واپس کئے جانے پر ان کی گاڑیوں کے نمبر پلیٹ تبدیل کئے جا رہے ہیں لیکن بندلہ گوڑہ آرٹی او دفتر میں بدعنوان عہدیدارو ںکی من مانی کے سبب پرانے شہرسے تعلق رکھنے والے ڈرائیورس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔گذشتہ تین ماہ سے آرٹی او دفتر بندلہ گوڑہ کے چکر کاٹ رہے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کسی بھی آرٹی او دفتر میں ان مسائل کا سامنا نہیں ہے لیکن بندلہ گوڑہ میں عہدیداروں کی جانب سے درخواستوں کو مسترد کیا جا رہاہے یا پھر زیر التواء رکھتے ہوئے ڈرائیورس کو ہراساں کیا جا رہاہے جبکہ ڈرائیورس معاشی مشکلات کا شکارہونے کے بعد اپنی گاڑیوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔گاڑیوں پر ٹیکسی پلیٹ ہونے کے سبب ان کی گاڑیوں کی فروخت آسان نہیں ہورہی ہے اسی لئے وہ اپنی گاڑیوں کی ٹیکسی پلیٹ کو خانگی پلیٹ میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ آرٹی او دفتر
کے عہدیداروں سے رابطہ کی کوشش میں ناکامی کے بعد دفتر میں خدمات انجام دینے والے ایک ملازم نے نام کا انکشاف نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکسی پلیٹ سے خانگی پلیٹ کرنے کیلئے عہدیداروں کی جانب سے موٹی رقم کا مطالبہ کیا جا رہاہے اور کئی ڈرائیورس مسلسل بے روزگار ہونے کے سبب مطلوبہ رقم ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لئے ان کی درخواستوں کو زیر التواء رکھا جا رہا ہے۔م