سیاست فیچر
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ٹیرف کا راجہ کہا جارہا ہے۔ یہ وہی ڈونالڈ ٹرمپ ہیں صدارتی انتخابات میں جن کی کامیابی کیلئے ہمارے ملک کے بعض مقامات پر وزیراعظم نریندر مودی کے بھکتوں نے مذہبی رسومات ادا کئے تھے (ہون کا اہتمام کیا تھا) یہاں تک کہ ٹرمپ کی مندر بنانے کے اعلانات بعض افراد نے کئے تھے، خاص طور پر فرقہ پرستوں نے ٹرمپ کو مودی جی کا قریبی دوست قرار دینے میں تھوڑی سی شرم بھی محسوس نہیں کی حالانکہ آج اگر ہم ٹرمپ کے بیانات پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہیکہ وہ پوری طرح ہندوستان کے خلاف ہوگئے ہیں جس کے نتیجہ میں ہی انہوں نے ہندوستان پر عائد 25 فیصد ٹیرف کو بڑھا کر 50 فیصد کردیا حد تو یہ ہیکہ ٹرمپ نے نریندر مودی کو اپنے قریب بٹھا کر ہندوستان کو دنیا کا سب سے بڑا Teriff Violator کہا لیکن مودی جی نے شاید اپنے دوست (دونوں ایک دوسرے کو مائی فرینڈ مائی فرینڈ کہتے نہیں تھکتے تھے) ٹرمپ کی دوستی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا منہ توڑ جواب دینے کی زحمت نہیںکی تاہم کچھ ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ شاید مودی جی Communication gap کے نتیجہ میں ٹرمپ کی برہمی اور ہندوستان پر عائد کردہ ایک سنگین الزام کو سمجھ نہیں پائے۔ بہرحال جہاں تک ڈونالڈ ٹرمپ کا سوال ہے انہوں نے ہندوستان کو خاص طور پر نشانہ بنایا حد تو یہ ہیکہ انہوں نے پاکستان کو ہندوستان کی صف میں لا کھڑا کردیا جبکہ ہندوستان اور پاکستان میں ہر لحاظ سے زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ٹرمپ نے ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ وہ روسی تیل خرید کر نہ صرف اپنی ضروریات کی تکمیل کررہا ہے بلکہ یوروپی ملکوں کو وہی تیل فروخت کرکے منافع بھی کمارہا ہے۔ انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ شاید مستقبل میں پاکستان ہندوستان کو تیل فروخت کرے۔ ٹرمپ نے ہندوستان پر مسلسل تنقید کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے چنانچہ انہوں نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ 30-35 مرتبہ ببانگ دہل کہا ہے کہ انہوں نے ہی ہندوستان۔ پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ پاکستان نے ٹرمپ کے اس بیان کی تائیدکی لیکن مودی جی اس پر خاموش رہے۔ بڑی خاموشی کے بعد ہماری وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان آیا جس میں ٹرمپ کا نام لئے بغیر کہا گیا کہ ہندوستان۔ مودی جی نے اس وقت بھی اسی طرح خاموشی اختیار کی جس طرح منی پور میں عیسائی خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی، گرجاگھروں کو جلانے اور بے قصوروں کے قتل پر مسلسل 78 دنوں تک خاموش رہ کر اپنا منہ کھولا تھا۔ ہم بات کررہے تھے ٹرمپ کے ٹیرف کی۔ ان کے ٹیرف عائد کئے جانے کے نتیجہ میں دنیا کے 195 ملکوں (اقوام متحدہ کے رکن ممالک 193 اور دو مبصر ممالک) میں سے 90 ممالک بہت زیادہ متاثر ہوئے جن میں روس، چین، برازیل اور ہندوستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان میں گجرات کے تین شہروں سورت، احمدآباد اور راجکوٹ کے ہیروں کے تاجرین و ورکرس شدید متاثر ہوئے اور ہوں گے۔ ویسے بھی ایک سال کے دوران گجرات میں 80 ڈائمنڈ ورکرس نے خودکشی کرلی۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملہ میں اپنے حلیف اور حریف ممالک کو نہیں بخشا لیکن اسرائیل، پاکستان، ترکیہ، ملیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا، اسپین، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات اور بنگلہ دیش کے ساتھ رعایت برتی۔ اب چلتے ہیں ہمارے ملک کی وزیرفینانس نرملا سیتارامن کی طرف۔ انہیں ملک میں تاجرین اور فکرمند شہریوں نے ٹیکس کی رانی کا نام دیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق 2014ء کے عام انتخابات میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پچھلے سال یعنی 2012ء تک تقریباً 1711000 دولتمند ہندوستانیوں نے اپنے وطن عزیز کی شہریت ترک کرکے ایسے ملکوں کی شہریت حاصل کی جہاں ٹیکس سے پاک نظام پایا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان شہریوں میں 23000 ملینرس شامل ہیں۔ ہندوستانی دولتمند کس تیزی سے دوسرے ملکوںکی شہریت حاصل کررہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2020ء اور 2024ء کے درمیان 8 لاکھ ہندوستانیوں نے اپنے ملک کی شہریت چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کی۔ اس ضمن میں جو اعدادوشمار میڈیا رپورٹس کے ذریعہ منظرعام پر آئے ان کے مطابق سال 2014ء میں 129328، 2015ء میں 131489، 2016ء میں 141603، 2017ء میں 133049، 2018ء میں 134561، 2019ء میں 144017، 2020ء میں 85256 ، 2021ء میں 163370، سال 2022ء میں 225820، 2023ء میں 216219 اور سال 2024ء میں 206378 ہندوستانیوں نے ہندوستان کی شہریت ترک کرکے دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کی اور اس بارے میں مودی کے ناقدین کا دعویٰ ہیکہ ان کی حکومت کی ٹیکس دہشت گردی کے باعث ان ہندوستانیوں نے دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔