کم محصولات والے ممالک کی شہریت کے حصول کو ترجیح ۔ بجٹ میں ویلتھ ٹیکس کے مفاد کے بھی اندیشے
حیدرآباد 10 جنوری ( سیاست نیوز) ملک میں محصولات کے ذریعہ عائد بوجھ کے نتیجہ میں سرکردہ تاجرین اور قابل لحاظ آمدنی والے افرادان ممالک کی شہریت لینے لگے ہیں جہاں ٹیکس شرح کم ہے اور معیارزندگی بہتر ہے۔ ہندوستان میں آمدنی پر ٹیکس کے سبب وہ متمول شہری جن کی آمدنی کروڑوں سے تجاوز کرتی جا رہی ہے ملک چھوڑنے لگے ہیں جس سے ملک کی شرح غربت میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ ہندوستان میں اگر کوئی ایک کروڑ سالانہ تنخواہ والا ملازم ہے تو اسے 30 لاکھ ٹیکس ادا کرنا پڑرہا ہے جبکہ ٹیکس پر 25 فیصد سرچارج ادا کرنا پڑتا ہے جو 7.5لاکھ ہوتا ہے اس کے علاوہ 1لاکھ 50 ہزار روپئے سیس ادا کرنا ہوتا ہے۔اس طرح ایک کروڑ تنخواہ والے شخص کو 39لاکھ ٹیکس ادا کرنا پڑرہا ہے اور وہ سالانہ 61لاکھ کمائی کرتا ہے جس میں دیگر اخراجات پر جی ایس ٹی وغیرہ شامل نہیں ہے۔ جملہ 30 فیصد ٹیکس ادا کرنے پر 39 فیصد تک پہنچ جاتا ہے اور اس طرح بھاری تنخواہ والے افراد 5ماہ حکومت کیلئے کام کر رہے ہیں جبکہ 7ماہ اپنے لئے کام کررہے ہیں۔ ملک میں ملازمین سے ٹیکس کی شرح کو دیکھتے ہوئے کئی سرکردہ ملازمین بیرونی کمپنیوں میں ملک سے باہر خدمات کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ مختلف ممالک میں ٹیکس کی شرح کم ہے۔ بتایا گیا کہ مرکزکی بجٹ تیاریوں کے ساتھ پھر یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ ملک میں دوبارہ دولت پر ٹیکس کو روشناس کروایا جائے جو 2014 میں ختم کردیا تھا ۔ ماہرین کا کہناہے کہ اگر دوبارہ ’ویلتھ ٹیکس‘ عائد کیا جاتا ہے تو دولت کو ملک سے باہر لیجانے کا عمل تیز ہو جائیگا اور دولت کے اخراج کے بعد وہ ممالک فائدہ میں رہیں گے جہاں ٹیکس کم ہے۔ ملک کے معاشی نظام کا حصہ رہنے والے انتہائی دولت مند افرا د میں 4300 دولتمندوں نے 2024 میں ہندفستانی شہریت ترک کرکے دیگر ممالک کی شہریت حاصل کی ہے اسی طرح ہندوستان میں ایک سروے کے مطابق 2025 میں 22 فیصد دولت مند ترین افراد نے ملک چھوڑنے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ ذرائع کا کہناہے کہ کمپنی نے گذشتہ 10 برسوں میں ہندوستانی شہریت ترک کرنے والے دولت مند افراد اور ملک سے دولت کے اخراج پر رپورٹ تیار کی ہے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ اگر دوبارہ دولت پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو مزید دولت مند افراد ملک چھوڑنے والوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں جبکہ بعض ماہرین کا کہناہے کہ اگر سرمایہ کاری کے مواقع سب کو یکساں میسرآنے لگتے ہیں تو ترک شہریت کے رجحان میں کمی آسکتی ہے لیکن ملک میں سامراجی معاشی نظام کے نتیجہ میں سب کو یکساں مواقع میسر نہیں ہیں جو کئی سرکردہ دولت مندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔3