ٹیکنالوجی پر صدر دروپدی مرمو کا ’بلیک سوان سمٹ‘میں اہم خطاب

   

بھونیشور۔7 فروری( یو این آئی ) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کے روز صنعت کاروں اور اختراع کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مالیاتی ٹیکنالوجی محض منافع کا ذریعہ نہ رہے ، بلکہ سماجی انصاف اور شمولیت کے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر معاشرے کے پسماندہ طبقات تک پہنچے ۔اوڈیشہ حکومت اور ’گلوبل فنانس اینڈ ٹیکنالوجی نیٹ ورک‘ کے اشتراک سے منعقدہ ‘بلیک سوان سمٹ انڈیا’ سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے ہندوستان کے فن ٹیک سفر کو صنفی انصاف اور شمولیاتی ترقی کی ایک داستان قرار دیا۔صدرِ جمہوریہ نے فن ٹیک کے ماحولیاتی نظام میں خواتین کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے صارف کے طور پر نہیں، بلکہ انہیں لیڈر، پیشہ ور اور صنعت کار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔ ہر نئی پالیسی اور پروڈکٹ کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ آیا وہ خواتین کو ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بنانے میں مددگار ہے یا نہیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ صرف ٹیکنالوجی کی موجودگی شمولیت کی ضمانت نہیں ہے ۔ دور دراز کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں اب بھی بہت سے شہری ڈیجیٹل آلات سے ناواقف ہیں۔ صدر نے کہا کہ ان طبقات کو ہنر مند بنانا ضروری ہے تاکہ فن ٹیک حقیقی معنوں میں روزگار اور انٹرپرینیورشپ کا انجن بن سکے ۔