محمد علی شبیر کا حکومتوں کو مشورہ ، بستروں ، آکسیجن اور ادویات کی قلت کی شکایت
حیدرآباد :۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے مرکز کی بی جے پی اور تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کو مشورہ دیا کہ ٹیکہ اندازی کا حشر انتخابی وعدوں کی طرح نہ کریں کیوں کہ یہ کروڑہا انسانی جانوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 11 تا 14 اپریل ٹیکہ اندازی اتسو کا اعلان کیا تھا جب کہ ملک میں ویکسین کی دستیابی کا پتہ چلائے بغیر یہ اعلان کیا گیا تھا لہذا یہ پروگرام ناکام ہوگیا ۔ مرکز نے یکم مئی سے 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ٹیکہ اندازی کا اعلان کیا ہے جب کہ ملک میں درکار مقدار میں ویسکین کا ذخیرہ موجود نہیں ہے ۔ ویکسین کے بغیر یہ پروگرام کس طرح کامیاب ہوپائے گا ۔ ویکسین ، میان پاور اور انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث ملک کی کوئی بھی ریاست یکم مئی سے ٹیکہ اندازی مہم کے آغاز کے موقف میں نہیں ہے ۔ رجسٹریشن کے لیے شروع کردہ ویب سائیٹ بھی زائد درخواستوں سے نمٹنے میں ناکام ہو کر ناکارہ ہوچکی ہیں ۔ وزیراعظم نے جس طرح ہر شخص کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کے وعدہ سے انحراف کرلیا ٹھیک اسی طرح ٹیکہ اندازی کا حشر نہ کیا جائے ۔ ہر شہری کو مفت ٹیکہ اندازی مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے اور کورونا وبا سے عوام کی زندگی کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ عوام پہلے ہی کورونا سے دہشت کا شکار ہیں ۔ ایسے وقت جھوٹی امیدوں پر مبنی وعدوں سے عوام کو مزید ذہنی الجھن میں مبتلا نہ کیا جائے ۔ ملک میں ویکسین کے علاوہ آکسیجن ، وینٹیلیٹرس اور بستروں کی کمی ہے ۔ ادویات اور انجکشن زائد قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں ۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے ٹیکہ اندازی کے لیے 2500 کروڑ کی منظوری کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کورونا صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ نائیٹ کرفیو کے بارے میں بھی حکومت کا موقف واضح نہیں ہے ۔ پہلی لہر کے باوجود ریاست میں انفراسٹرکچر سہولتوں میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ ماہرین کی جانب سے دوسری لہر کے زیادہ خطرناک اور مہلک ہونے کے بارے میں پیش قیاسی کے باوجود تلنگانہ حکومت خواب غفلت کا شکار رہی ۔ تلنگانہ حکومت کو مرکز سے ویکسین کے حصول اور اس کی قیمت کی تفصیلات عوام میں پیش کرنا چاہیے ۔ محمد علی شبیر نے کہا ٹیکہ اندازی مہم کے شیڈول کا اعلان کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ریاست میں درکار خوراک موجود ہے یا نہیں حکومتوں کو عوامی زندگی سے کھلواڑ کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی ۔۔