صرف ہدف کی تکمیل پر توجہ کے بجائے کوویڈ کے خاتمہ کیلئے عوامی شکایتوں کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری
کاماریڈی : کوویڈ کے خاتمہ کیلئے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکہ اندازی کی جارہی ہے کوویڈ سے متاثرہ افراد کے علاج و معالجہ کے ساتھ ساتھ کوویڈ سے محفوظ رہنے کیلئے ٹیکہ اندازی بھی کی جارہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے شروع کردہ اس اسکیم میں کئی خامیاں بھی پائی جارہی ہے ۔ چند روز قبل ہی عہدیداروں کی لاپرواہی سے متعلق اخبارات میں شائع خبر پر عوام حیرت زدہ ہیں ، جس کی تفصیلات کے مطابق کوویڈ سے متاثر ہونے کے بعد گذشتہ سال ماہ اپریل میں کاماریڈی اور ضلع کے تاڑوائی منڈل کے موضع کرشنا جی واڑی سے تعلق رکھنے والے راج شیکھر 10؍ اپریل 2021 ء کے روز کوویڈ کا پہلا ٹیکہ لیا تھا اور 27؍ اپریل کے روز اس کی موت واقع ہوگئی تھی لیکن عہدیداروں نے 28؍ جنوری 2022 ء کے روز راج شیکھر کے فون نمبر پر مسیج روانہ کیا اور دوسرا ٹیکہ کامیاب طور پر حاصل کیا گیا کہتے ہوئے مسیج روانہ کیا جس پر اس کے گھر والے حیران ہوگئے اور اس بات کی اطلاع ذرائع ابلاغ کو پہنچائی گئی جبکہ تقریباً9 ماہ قبل کوویڈ سے ہی اس کی موت واقع ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی عہدیدار دوسرے ڈوس ٹیکہ اندازی حاصل کرنے کا پیام روانہ کیا ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ٹیکہ اندازی میں کئی دھاندلیاں ہورہی ہے اور بنیادی طور پر اس کا کوئی کام نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ حکومت پرائمری ہیلت سنٹروں میں ٹارگیٹ دیتے ہوئے ٹارگیٹ کی تکمیل کیلئے دبائو ڈال رہی ہے جس سے عہدیدار پہلے مرحلہ کی ٹیکہ اندازی کے بعد دوسرے مرحلہ میں ٹیکہ لے یا نہ لیں ، ٹیکہ لینے کا پیام روانہ کیا جارہا ہے ۔ نہ صرف دوسرے مرحلہ کے بلکہ بعض جگہوں پر پہلے مرحلہ کی ٹیکہ اندازی میں بھی دھاندلیاں کئے جانے کی شکایت کی ہے۔ ٹیکہ نہ لیا جائے بھی تو آدھار کارڈ ، فون نمبر فراہم کرنے کی صورت میں ٹیکہ حاصل کرنے کاپیام روانہ کیا جارہا ہے ٹیکہ اندازی میں کئی دھاندلیاں کی جانے کی شکایتیں وصول ہورہی ہے اور فوت ہونے والے شخص کو ٹیکہ دینے کا انکشاف کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے حیران کردیا گیا اور اس خصوص میں جائزہ لیتے ہوئے بنیادی طور پر حکومت کے مقصد کی تکمیل کیلئے اقدامات کریں اور کوویڈ کو مکمل طور پر ختم کیا گیا تو بہتر ہوگا۔
