ٹی آر ایس، بی جے پی کی بی ٹیم، دستور کی تبدیلی میں اہم کردار

   

Ferty9 Clinic

مسلم قائدین کو ذاتی مفادات عزیز، امجداللہ خاں خالد ترجمان ایم بی ٹی کا بیان

حیدرآباد۔7اگسٹ(سیاست نیوز) مسلم قائدین اپنے ذاتی مفادات کے لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کررہے ہیں جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی دستور کی تبدیلی کی کوششوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کر رہی ہے۔ جناب امجد اللہ خان ترجمان مجلس بچاؤ تحریک نے نام نہاد مسلم سیاسی اور مذہبی قیادت سے استفسار کیا کہ وہ عوام کو اس بات کا جواب دیں کہ کیوں وہ غیر دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعہ ملک بھر میں مسلمانوں کی تباہی کی ذمہ دار سیاسی جماعت کو استحکام دینے والوں کے ساتھ ہیں۔ انہو ںنے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے طلاق ثلاثہ بل‘ آر ٹی آئی ‘ یو اے پی اے میں ترمیم کے بعد کشمیر کو حاصل خصوصی موقف کو کو ختم کرنے کیلئے 370 کی برخواستگی کی تائید کی ہے جو کہ مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے۔ جناب امجد اللہ خان نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں انتخابات کے دوران مسلم یونائیٹڈفورم نے ٹی آر ایس کی تائید کرتے ہوئے کامیاب بنانے کے لئے مہم چلائی تھی اور اب تلنگانہ راشٹر سمیتی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ’’بی‘‘ ٹیم ثابت ہونے لگی ہے اور اس کے باوجود بھی اس کی تائید کی برقراری لمحہ فکر ہے۔ترجمان مجلس بچاؤ تحریک نے کہا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کرنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ذمہ داران اس بات کا جواب دیں کہ کیا انہیں یہ نہیں لگتا کہ اتنے متنازعہ بلوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا ساتھ دینے والی تلنگانہ راشٹر سمیتی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا ساتھ نہیں دے گی!انہو ںنے مجلس‘ جماعت اسلامی اور یونائیٹڈ مسلم فورم کے ذمہ داروں سے اس مسئلہ پر جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو حالات پیدا ہوئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹی آر ایس مستقبل میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی تائید کرے گی لیکن تلنگانہ راشٹرسمیتی کی تائید کرنے والے مسلم نمائندو ںکو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے

کیونکہ ان کے موقف کا موجودہ موقف تلنگانہ کے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے ۔ جناب امجد اللہ خان خالد نے کہا کہ تلنگانہ کے ایک کروڑ مسلمان ان حالات میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کا شکار ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مفاہمت کے ذریعہ تلنگانہ راشٹرسمیتی خود کی بقاء کی کوشش میں مصروف ہے اور اس کے باوجود مسلمانوں کی رہبری اور رہنمائی کے دعویداروں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وہ کس راہ پر قوم کو لے جا رہے ہیں ۔انہو ںنے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حمایت کرتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ چلنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے عوام میں موجود اضطرابی کیفیت کے خاتمہ کو یقینی بنائیں۔