ہڑتال پر مجلس کی خاموشی معنیٰ خیز، پونم پربھاکر کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔21 ۔ اکٹوبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے پرگتی بھون کے گھیراؤ پروگرام کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے تحدیدات اور قائدین کو گھروں پر نظربند کرنے کے باوجود ہزاروں کارکن پرگتی بھون کے گھیراؤ کیلئے پہنچے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے۔ پولیس کے ذریعہ احتجاج کو کچلنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔ ریاست بھر میں جگہ جگہ کانگریس کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ، سیاسی جماعتوں ، عوامی تنظیموں ، طلبہ تنظیموں اور تلنگانہ سماج نے آر ٹی سی ہڑتال کی یکسوئی کا مطالبہ کیا لیکن کے سی آر اپنے تکبر پر قائم ہیں اور وہ ہٹ دھرمی کے ذریعہ ہڑتال کو طوالت دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کی نظر آر ٹی سی کے اثاثہ جات پر ہے جو اپنے قریبی افراد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور خودکشی سے گریز کریں۔ کانگریس پارٹی مسائل کی یکسوئی تک احتجاج میں شریک رہے گی۔ پونم پربھاکر نے مرکزی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھائے اور کہا کہ 17 دن گزرنے کے باوجود گورنر سے رپورٹ طلب کرنے کے بعد مرکز خاموش ہے۔ انہوں نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی حکومت کشن ریڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلہ پر ردعمل کا اظہار کریں۔ تعلیمی اداروں کو تعطیلات کے ذریعہ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ پونم پربھاکر نے حکومت کی حلیف جماعت مجلس کی خاموشی پر سخت تنقید کی اور اسمبلی میں اہم اپوزیشن کا مقام حاصل کرنے والی مجلس کو آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کیوں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین کی خودکشی پر مجلس خاموش کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حلیف جماعت ہونے کے سبب عوامی مسائل پر مجلس نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا رویہ حیدرآباد میں ٹکراؤ اور دہلی میں دوستی کا ہے۔ بی جے پی قائدین کو حکومت کے بارے میں واضح موقف کا اظہار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس تینوں آپس میں دوست جماعتیں ہیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کے سی آر کو جان لینا چاہئے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا اور عوامی مسائل سے لاپرواہی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی میچ فکسنگ کے نتیجہ میں مرکزی حکومت مداخلت سے گریز کر رہی ہے۔