تینوں پارٹیوں کو سب سے زیادہ عطیات وصول ، اسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمس کے تجزیہ میں انکشاف
حیدرآباد۔12 نومبر(سیاست نیوز) سیاسی جماعتیں جنہیں نامعلوم ذرائع سے آمدنی حاصل ہوتی ہے ان علاقائی جماعتو ں میں سب سے زیادہ نامعلوم ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے والی جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی ہے جو کہ 89کروڑ 15لاکھ 80ہزار روپئے نامعلوم ذرائع سے حاصل کئے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر تلگودیشم پارٹی ہے جس کی نامعلوم ذرائع سے ہونے والی آمدنی 81 کروڑ سے زیادہ ہے اسی طرح تیسرے نمبر پر نامعلوم ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے والی سیاسی جماعت وائی ایس آر سی پی ہے جو کہ 74کروڑ 75 لاکھ کی آمدنی نامعلوم ذرائع سے کرچکی ہے۔مالی سال 2019-20کے دوران سیاسی جماعتوں کی آمدنی کا جائزہ لینے اور ان کی جانب سے ظاہر کی جانے والی آمدنی میں نامعلوم ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق تفصیلات کے حصول پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر سی پی ایسی علاقائی جماعتیں ہیں جو کہ نامعلوم ذرائع سے سب سے زیادہ عطیات حاصل کرنے والی ہیں۔الیکشن کمیشن آف انڈیا میں علاقائی سیاسی جماعتوں کی جانب سے داخل کئے جانے والے حساب کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد اسوسیشن آف ڈیموکریٹک ریفارمس کی جانب سے کئے گئے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ بیشتر تمام علاقائی سیاسی جماعتوں کے کھاتو ںمیں نامعلوم ذرائع سے آمدنی دکھائی گئی ہے لیکن جو سرفہرست جماعتیں ہیں ان میں تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر سی پی شامل ہیں۔سیاسی جماعتو ںکو دیئے جانے والے عطیات کے حصول کے بعد سیاسی جماعتوں کو اس با ت کا اختیار حاصل ہے کہ وہ عطیہ دہندہ کا انکشاف کرے یا اسے خفیہ رکھے ۔ جن سیاسی جماعتو ںکی جانب سے عطیہ دہندہ کو مخفی رکھنا ہوتا ہے وہ ان کے نام کی جگہ نامعلوم ذرائع آمدنی کے طور پر حاصل ہونے والے عطیات کا اندراج کرتے ہیں لیکن اس کے لئے یہ لازمی ہے کہ عطیہ کی رقم 20ہزار سے کم ہو ۔نامعلوم ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے والی ان سیاسی جماعتو ںکی فہرست میں بی جے ڈی ‘ ڈی ایم کے ‘ جے ڈی ایس ‘ جے ڈی یو کے علاوہ سماج وادی پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں جو کہ نامعلوم ذرائع سے عطیات حاصل کرتے ہیں ۔م