ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو کارکردگی اور مقبولیت کی بنیاد پر آئندہ چناؤ میںٹکٹ

   

عوامی ناراضگی کا پتہ چلانے چیف منسٹر کا سروے، مضبوط اپوزیشن کے نتیجہ میں 30 ارکان کا ٹکٹ خطرے میں
حیدرآباد۔/12 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے ابھی 27 ماہ باقی ہیں لیکن چیف منسٹر کے سی آر نے ابھی سے پارٹی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کو کمزور اپوزیشن کا سامنا تھا لیکن دوسری میعاد میں کانگریس و بی جے پی سے ٹی آر ایس کو سخت چیلنج درپیش ہے ۔ گزشتہ 6 ماہ میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا جس کے پیش نظر چیف منسٹر امیدواروں کی جانچ شروع کر چکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق تیسری میعاد کی تیاری میں چیف منسٹر نے تمام موجودہ ارکان اسمبلی کی کارکردگی پر سروے کا آغاز کیا ۔ ارکان اسمبلی کے خلاف عوامی ناراضگی کا پتہ چلانے سروے کیا جارہا ہے جس میں پتہ چلے گا کہ ارکان اسمبلی نے کس حد تک ترقیاتی اور فلاحی کام کئے ہیں۔ ارکان اسمبلی کی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر انہیں دوبارہ ٹکٹ کا فیصلہ کیا جائیگا۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ ایسے ارکان کا ابھی سے انتخاب کیا جائے جو کامیابی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی تعداد 103 ہے جبکہ 2018 میں 88 ارکان منتخب ہوئے تھے باقی ارکان کانگریس و تلگودیشم سے شامل ہوئے ہیں۔ 119 رکنی اسمبلی میں چیف منسٹر تیسری میعاد کیلئے کم از کم 90 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ رکھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اپوزیشن کے بہتر موقف کے باوجود ٹی آر ایس کو 70 تا 80 نشستوں پر کامیابی ملیگی کیونکہ حکومت نے فلاحی اسکیمات سے کمزور و پسماندہ طبقات کو مالی فائدہ پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف آزادانہ سروے ایجنسیوں کو متحرک کیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ 3 ماہ میں رپورٹ پیش کریں۔ 2018 میں منتخب 88 ارکان میں 68 دوسری مرتبہ منتخب ہوئے۔ اپوزیشن کے مضبوط موقف کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ کسی بھی حلقہ میں ایسے امیدوار کو میدان میں اُتارا جائے جس سے عوام میں ناراضگی ہے۔ 2018 میں کے سی آر نے 5 ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم رکھا تھا اور ان نشستوں پر جن نئے امیدواروں کو موقع دیا گیا وہ تمام کامیاب رہے۔ R