ہر تین ماہ میں کارکردگی کا سروے ، غیر مقبول قائدین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد: چیف منسٹر اور ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ آئندہ اسمبلی و لوک سبھا انتخابات کیلئے امیدواروں کے بارے میں ابھی سے فیصلہ کیا جاسکے۔ حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس کو دو مواقع پر انتخابی جھٹکہ لگا۔ 2014 ء میں تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے اسمبلی اور لوک سبھا کے عام انتخابات کے علاوہ تمام ضمنی انتخابات اور مجالس مقامی کے انتخابات میں ٹی آر ایس کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ۔ ٹی آر ایس تلنگانہ میں ناقابل تسخیر طاقت کے طور پر ابھری اور اپوزیشن جماعتیں اپنے وجود کا احساس دلانے کی جدوجہد کرنے لگیں۔ ایسے میں دوباک کے ضمنی چناؤ میں پارٹی قائدین کی حد سے زیادہ خود اعتمادی نے پارٹی کو نقصان پہنچایا اور بی جے پی کامیاب ہوئی۔ اسی طرح گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 99 سے گھٹ کر 56 ہوگئی ۔ چیف منسٹر کی جانب سے کرائے گئے مختلف سروے رپورٹس کے مطابق دوباک میں آنجہانی رکن اسمبلی رام لنگا ریڈی کی بیوہ اور گریٹر حیدرآباد میں زیادہ تر موجودہ کارپوریٹرس کو ٹکٹ دینا مہنگا ثابت ہوا ہے۔ چیف منسٹر نے آئندہ کسی بھی نقصان سے بچنے کے لئے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی کارکردگی کے بارے میں سروے کا آغاز کیا ہے۔ سروے کا مقصد عوامی نمائندوں کے بارے میں رائے دہندوں سے تفصیلات حاصل کرنا ہے ۔ اگر حلقہ جات کے رائے دہندے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوں تو انہیں آئندہ انتخابات میں ٹکٹ سے محروم کرنے میں سروے رپورٹ مددگار ثابت ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف خانگی اداروں سے سروے رپورٹ طلب کی گئی ہے جس میں خاص طور پر عوامی نمائندوں کی کارکردگی سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ بلدی انتخابات میں شکست کی وجوہات پر کرائے گئے سروے میں پتہ چلا ہے کہ 99 کارپوریٹرس میں سے 78 کو دوبارہ ٹکٹ دینا نقصان دہ ثابت ہوا۔ پارٹی نے محض 21 کارپوریٹرس کو تبدیل کیا گیا تھا۔ 78 موجودہ کارپوریٹرس میں صرف 44 دوبارہ کامیاب ہوئے ، ان میں سے 17 ایسے تھے جنہیں معمولی ووٹوں سے کامیابی ملی۔ ملک میں اس بات کی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی 2022 ء کے اختتام پر یا 2023 کے اوائل میں ملک میں لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کے یکساں انتخابات منعقد کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں سروے میں ناکام ثابت ہونے والے عوامی نمائندوں کو ٹی آر ایس ٹکٹ سے محروم کردے گی۔ پارٹی قیادت کو احساس ہونے لگا ہے کہ عوامی نمائندے اور قائدین عوام سے دور ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے عام انتخابات تک لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں میں ہر تین ماہ میں سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔