دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس کا احتجاج، کارروائی میں رکاوٹ، پارلیمنٹ کے احاطہ میں مظاہرہ
حیدرآباد۔یکم ڈسمبر،( سیاست نیوز) دھان کی خریدی کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس ارکان نے آج مسلسل تیسرے دن بھی احتجاج منظم کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی آر ایس کے ارکان پلے کارڈس کے ساتھ ایوان میں احتجاج کرنے لگے اور وہ مرکز سے کسانوں سے دھان خریدنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ صدرنشین راجیہ سبھا ایم وینکیا نائیڈو اور اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے احتجاجی ارکان کو نشستوں پر واپس ہونے کی ہدایت دی لیکن احتجاج جاری رہا۔ لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا نے ٹی آر ایس ارکان کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ وقفہ سوالات کے دوران جب ٹی آر ایس ارکان کارروائی میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے اسپیکر نے نشستوں پر واپس ہونے کی ہدایت دی۔ اسپیکر کی اپیل نظرانداز کرتے ہوئے ٹی آر ایس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور کارروائی میں رکاوٹ پیدا کردی۔ اسپیکر نے ارکان کے رویہ پر برہمی ظاہر کی اور ایوان کی کارروائی نصف گھنٹہ کیلئے ملتوی کردیا۔ اجلاس کے آغاز سے ہی ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج شروع ہوگیا۔ اسپیکر نے کہا کہ وہ اظہار خیال کا موقع دیں گے بشرطیکہ وقفہ سوالات میں مداخلت نہ کی جائے۔ ٹی آر ایس ارکان مرکز کی جانب سے دھان کی خریدی کی مانگ کرتے ہوئے مراکز کے قیام کے اعلان پر اصرار کررہے تھے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں دھرنا منظم کیا ۔ وہ دھان کی خریدی کے علاوہ ایم ایس پی قانون کی منظوری کا مطالبہ کررہے تھے۔ لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے 9 ارکان احتجاج میں شامل رہے۔ اپوزیشن کی جانب سے واک آؤٹ کے بعد بھی ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج جاری رہا جس پر اسپیکر نے کارروائی کو ملتوی کردیا۔ لوک سبھا میں پارٹی لیڈر ناما ناگیشورراؤ نے تحریک التواء پیش کی جسے اسپیکر نے نامنظور کردیا۔ر