محمد علی شبیر کا الزام، زرعی قوانین اور دھان کے مسئلہ پر اسمبلی کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ
حیدرآباد۔8۔نومبر (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں کمی سے انکار پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو عوام کی مشکلات اور تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ عوام کو فوری طور پر راحت پہنچانے کے بجائے ، وہ مرکزی حکومت پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک دوسرے کی حلیف جماعتیں ہیں اور دونوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی میچ فکسنگ کے علاوہ کچھ نہیں ۔ حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے الزام تراشی کا آغاز ہوا ہے لیکن تلنگانہ کے عوام دونوں پارٹیوں کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہو تو اسے کے سی آر حکومت کے خلاف تحقیقات کا اعلان کرنا چاہئے ۔ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین الزام تراشی کے بجائے مرکزی حکومت کو کے سی آر حکومت کے خلاف تحقیقات کیلئے راضی کریں۔ محمد علی شبیر نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکامی پر کے سی آر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ایک طرف کسانوں سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ دھان کی خریدی کیلئے مرکز پر دباؤ بنانے میں ناکام ہیں۔ کوئی بھی چیف منسٹر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کسانوں کی مدد سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو دیگر فصلوں کیلئے راغب کرنے کے بجائے دھان کی خریدی کے اقدامات کئے جائیں۔ پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے ارکان نے مرکز کے زرعی قوانین کی تائید کی تھی، بعد میں ٹی آر ایس نے بھارت بند میں حصہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس آپس میں آنکھ مچولی کا کھیل کر رہے ہیں تاکہ وہ عوام کو گمراہ کیا جائے ۔ انہوں نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے زرعی قوانین کی مخالفت اور مرکز کی جانب سے دھان کی خریدی کے حق میں قرار داد کی منظوری کا مطالبہ کیا ۔ ر
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے عوامی احتجاج منظم کرے گی۔ ر