ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت بلدیہ میں بے نقاب

   

بی جے پی کے حق میں مقابلہ سے گریز، کانگریس قائد راشد خاں کا الزام
حیدرآباد ۔ کانگریس پارٹی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی لنگو جی گوڑہ ڈیویژن کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان درپردہ مفاہمت کا الزام عائد کیا۔ اس حلقہ سے ٹی آر ایس کی جانب سے امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے اور بی جے پی کی کامیابی یقینی بنانے کیلئے کے سی آر نے امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نائب صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی محمد راشد خان نے کہا کہ بی جے پی قائدین کی کے ٹی آر سے ملاقات اور چیف منسٹر کی جانب سے امیدوار کھڑا نہ کرنے کی منظوری دینا دونوں پارٹیوں کی مفاہمت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی شروع سے عوام میں یہ بات کہہ رہی تھی کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے عوام کو گمراہ کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے کے سی آر اور حکومت کے خلاف الزام تراشی محض دھاوا ہے۔ ناگرجنا ساگر اسمبلی ضمنی چناؤ میں بی جے پی نے کمزور امیدوار کھڑا کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی مدد کی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی کے بہتر مظاہرہ کے بعد کے سی آر نے بی جے پی اعلیٰ کمان سے ربط قائم کرتے ہوئے درپردہ معاہدہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 7 برسوں میں کے سی آر نے نریندر مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی کے سی آر نے تائید کی ہے۔ دونوں پارٹیاں عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں جبکہ درپردہ دونوں کے مفادات مشترک ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے ٹی آر ایس اور بی جے پی نے منصوبہ بندی کرلی ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا مقصد محض عوام کو دھوکہ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈیویژن کیلئے بی جے پی قائدین کا کے ٹی آر سے ملاقات کرنا درپردہ مفاہمت کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام دونوں جماعتوں کی ڈرامہ بازی سے گمراہ نہیں ہوں گے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوگا۔