ٹی آر ایس اور بی جے پی پر ہجڑوں کی سیاست کرنے کا الزام

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ میں مخالفت، دہلی میں دوستی، کے سی آر کے مقدمات منظر عام پر لانے بی جے پی کو چیلنج : سمپت کمار
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز)سکریٹری اے آئی سی سی سمپت کمار نے ٹی آر ایس اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر ہجڑوں کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمپت کمار نے کہا کہ دونوں پارٹیاں بظاہر ایک دوسرے پر تنقید کررہی ہیں لیکن نئی دہلی میں دونوں ایک دوسرے کی تائید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے کے ٹی آر اور ڈاکٹر لکشمن ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی سیاست کو مردانہ سیاست نہیں بلکہ ہجڑوں کی سیاست کہا جائے گا۔ اگر دونوں پارٹیوں میں مردانگی ہوتی تو وہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ دہلی میں بھی مخالفت کرتے۔ مرکزی حکومت کے تمام اقدامات جیسے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، طلاق ثلاثہ بل اور دفعہ 370 کی برخواستگی کے فیصلوں کی پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس نے تائید کی لیکن حیدرآباد میں بیٹھ کر پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ آخر دونوں پارٹیاں کب تک عوام کو گمراہ کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر لکشمن تلنگانہ حکومت کو خاندانی حکومت اور حکومت پر کرپشن و بے قاعدگیوں کا الزام عائد کررہے ہیں اگر واقعی وہ اپنے الزامات میں سنجیدہ ہیں تو پھر مرکزی حکومت کے ذریعہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام دونوں پارٹیوں کی ملی بھگت اور ملا جلا کھیل دیکھ رہے ہیں اور مناسب وقت پر سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اپنی بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کیلئے مرکز میں بی جے پی کی تائید کررہے ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ مخالفت کی صورت میں ان کی بے قاعدگیوں پر تحقیقات کا آغاز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے ریاست کے مسائل پر ایک دن بھی مرکزی حکومت کو گھیرنے کی کوشش نہیں کی۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے مرکز کو ایک دن بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جمہوریت کا قتل ہورہا ہے ۔
کیا ڈاکٹر لکشمن بھول چکے ہیں گزشتہ پانچ برسوں تک رکن اسمبلی کی حیثیت سے ٹی آر ایس پر تنقید کرنے والے ڈاکٹر لکشمن مرکز میں حکومت کی تشکیل کے بعد ریاستی حکومت کے خلاف کارروائی پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کی سیاست ہجڑوں کی نہیں ہے تو مرکزی حکومت کو کے سی آر کے کرپشن کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔ کے سی آر کے خلاف موجود سی بی آئی مقدمات، کالیشورم پراجکٹ میں کرپشن اور انٹر نتائج میں دھاندلیوں جیسے مسائل پر مرکز خاموش کیوں ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر لکشمن کو مشورہ دیا کہ وہ کانگریس پر تنقید سے گریز کریں اگر وہ اپنی زبان کو لگام نہیں دیں گے تو کانگریس کارکن اس کا جواب دینا بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ڈاکٹر لکشمن کو ان کی صدارت سے محروم کرنے کی سرگرمیوں میں ہے اور ڈی کے ارونا اس عہدہ کی دوڑ میں آگے ہیں۔ اپنی صدارت کو بچانے کے لئے ڈاکٹر لکشمن ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔