دونوں جانب کے قائدین کو انحراف کا خطرہ ، کھمم اور ورنگل پر توجہ
حیدرآباد: دوباک اسمبلی کے ضمنی چناؤ اور گریٹر حیدرآباد کے میونسپل کارپوریشن انتخابات کے بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی رسہ کشی شدت اختیار کرچکی ہے۔ بی جے پی نے ریاست میں پارٹی کو برسر اقتدار لانے کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین کے لئے آپریشن آکرش شروع کیا ہے تاکہ اہم قائدین کی شمولیت کے ذریعہ ٹی آر ایس کو کمزور کیا جاسکے۔ اضلاع اور ریاست کی سطح پر ٹی آر ایس کے قائدین بی جے پی کی طرف راغب ہورہے ہیں اور ٹی آر ایس قیادت اپنے گھر کو محفوظ بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ حالیہ انتخابات کے بعد تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے لئے بی جے پی ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر ابھر چکی ہے ۔ کانگریس کی کمزور صورتحال نے بی جے پی کو استحکام کا موقع فراہم کیا ہے۔ 2014 کے بعد کانگریس ریاست میں ٹی آر ایس کی اہم حلیف تھی لیکن حالیہ واقعات کے بعد وہ تیسرے مقام پر آچکی ہے۔ بی جے پی کے آپریشن آکرش سے نمٹنے کیلئے ٹی آر ایس نے جوابی مہم شروع کرتے ہوئے بی جے پی قائدین اور کیڈر کو پارٹی میں شمولیت کی ترغیب دی ہے ۔ دونوں پارٹیاں ایک طرف اپنے قائدین کو روکنا چاہتی ہیں تو دوسری طرف مخالف پارٹی سے قائدین کو شامل کرنے کی مساعی ہے۔ ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی یہ حکمت عملی دور رس نتائج کی حامل رہے گی۔ بی جے پی کی نظریں ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں کے علاوہ گریجویٹ زمرہ کی کونسل کی دو نشستوں پر ہے۔ حالیہ دنوں میں بی جے پی کے ریاستی صدر بی سنجے نے یہ کہتے ہوئے سنسنی دوڑادی تھی کہ ٹی آر ایس کے 30 ارکان اسمبلی بی جے پی سے ربط میں ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی لہذا بی جے پی اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ ٹی آر ایس کو میئر کے عہدہ پر کامیابی سے روکا جائے ۔ بی جے پی کے خوف سے ٹی آر ایس اپنی حلیف جماعت مجلس سے بظاہر دوری اختیار کرنے پر مجبور ہے لیکن میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن کے موقع پر دونوں جماعتوں کی دوستی کا حقیقی طور پر پتہ چلے گا۔