کئی قائدین بی جے پی سے ربط میں، کھمم اور ورنگل بلدی انتخابات کی تیاریاں
حیدرآباد: دوباک ضمنی چناؤ اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی نے کھمم اور ورنگل کارپوریشنوں کے علاوہ گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ برسر اقتدار پارٹی دوباک اور حیدرآباد کے تجربات کی روشنی میں محتاط قدم اٹھا رہی ہے جبکہ بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں اور اس نے ٹی آر ایس اور کانگریس کے قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بی جے پی کے آپریشن آکرش سے کئی قائدین متاثر ہوئے اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹی آر ایس اور کانگریس کے بعض قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلیں گے ۔ دوباک اور حیدرآباد میں بی جے پی کے متاثر کن مظاہرے کے نتیجہ میں ایسے قائدین جو اپنی پارٹیوں میں نظر انداز کردیئے گئے انہوں نے بی جے پی سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ وہ اپنے بہتر سیاسی مستقبل کے لئے بی جے پی کو واحد متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ورنگل ، محبوب نگر ، رنگا ریڈی کے علاوہ کھمم اور نلگنڈہ میں بی جے پی نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کرتے ہوئے کانگریس اور ٹی آر ایس کے سابق وزراء اور سابق ارکان اسمبلی سے ربط قائم کیا ہے۔ 2023 اسمبلی انتخابات میں اسمبلی ٹکٹ کا بھروسہ دلاکر قائدین کو شمولیت کیلئے راضی کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے بعض قائدین کھمم اور ورنگل کارپوریشنوں کے انتخابات سے قبل بی جے پی میں شمولیت کی تیاری میں ہے ۔ فلم اسٹار وجئے شانتی اور قانون ساز کونسل کے سابق صدرنشین سوامی گوڑ نے حال ہی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ پردیش کانگریس کے خازن جی نارائن ریڈی بھی کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اے چندر شیکھر کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ جاریہ ماہ کے اواخر میں بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ وہ چیوڑلہ یا وقار آباد میں ایک بڑے جلسہ عام کی تیاری کر رہے ہیں۔ سابق سی ایل پی لیڈر جانا ریڈی نے بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات کو مسترد کردیا لیکن بی جے پی قائدین ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ تک جانا ریڈی کو منانے کے بارے میں پرامید ہیں۔ بی جے پی جانا ریڈی یا پھر ان کے فرزند کو امیدوار بنانا چاہتی ہے ۔ نرمل سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی مہیشور ریڈی کی بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات ہیں ۔ 2009 ء میں وہ پی آر پی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، بعد میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ نظام آباد کے سابق وزیر پی سدھرشن ریڈی کے علاوہ کھمم کے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی اور سابق وزیر ٹی ناگیشور راؤ سے بی جے پی قیادت ربط میں ہیں۔ ان قائدین نے بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے ، تاہم حالیہ دنوں مایوس سیاسی عناصر کے لئے بی جے پی بہتر ٹھکانہ کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔
