ٹی آر ایس حکومت مجلس کے ہاتھوں کٹھ پتلی : دتاتریہ

   

Ferty9 Clinic

17 ستمبر کو یوم نجات منانے کا مطالبہ، تلنگانہ میں بی جے پی مستحکم ہوگی

حیدرآباد۔/16 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی قائد بنڈارو دتاتریہ نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت مجلس کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن چکی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے چیف منسٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چیف منسٹر صرف زبانی دعوے کرتے ہیں جبکہ عملی اقدامات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ چیف منسٹر کی ساری توجہ کالیشورم پراجکٹ پر ہے اور انہیں ایک بھی انتخابی وعدہ کی تکمیل کی فکر نہیں۔ دتاتریہ نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے گئے لیکن آج تک ایک ایکر اراضی کو پانی سیراب نہیں ہوا۔ دتاتریہ نے بتایا کہ غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد سے متعلق حکومت کی کلیان لکشمی اسکیم کے رقومات گزشتہ پانچ ماہ سے جاری نہیں کئے گئے۔ تلنگانہ میں ہرطرف کرپشن اور بدعنونیاں عروج پر ہیں۔ انہوں نے ریاست کی معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو 17 ستمبر کو سرکاری سطح پر یوم نجات کے طور پر منانا چاہیئے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے 17 ستمبر کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی وعدہ سے انحراف کرلیا گیا۔ دتاتریہ نے سنگاریڈی ضلع کے 16 منڈلوں میں خشک سالی کی شدید صورتحال کا حوالہ دیا۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ سنگاریڈی میں پانی کی سربراہی کیلئے 100 کروڑ روپئے منظور کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو مرکزی حکومت کی جانب سے جو فنڈز جاری کئے جارہے ہیں اسے حکومت بہتر طور پر خرچ نہیں کررہی ہے۔ بلدی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے ابھی تک کسی بھی الیکشن کے بارے میں حکم التواء جاری نہیں کیا لیکن بلدی انتخابات کے سلسلہ میں کئی بلدیات میں وارڈز کی تنظیم جدید اور بی سی تحفظات کے مسئلہ پر حکم التواء جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو گاؤں گاؤں پہنچایا جائے گا۔ کانگریس کو ڈوبتی کشتی سے تعبیر کرتے ہوئے دتاتریہ نے کہا کہ مضبوط قیادت کی کمی کے باعث عوام میں پارٹی کا بھروسہ ختم ہوچکا ہے۔ دتاتریہ نے کہا کہ مسلم خواتین کے تحفظ کیلئے طلاق ثلاثہ پر قانون سازی کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں پارٹی دیہی سطح تک مستحکم ہوچکی ہے۔