ٹی آر ایس حکومت کوما میں، ریاست میں ہیلت ایمرجنسی کا مطالبہ

   

تلگو فلم اسٹارس کو سونو سود کی تقلید کا مشورہ، بھٹی وکرامارکا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کورونا کی ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاست میں ہیلت ایمرجنسی کے اعلان کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر علاج کی فراہمی کی ذمہ دار حکومت خود کوما میں دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ صحت کے انتظامات ٹھپ ہوچکے ہیں اور ریاست میں محکمہ صحت کا وجود بے معنی ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں علاج کیلئے آکسیجن، ادویات اور انجکشن وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن تلنگانہ حکومت ان اُمور کے بارے میں خواب غفلت کا شکار تھی۔ اب جبکہ صورتحال سنگین ہوچکی ہے اور ہائی کورٹ کی جانب سے سرزنش کی گئی لہذا حکومت نے آکسیجن کی تیاری کیلئے پلانٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں وزیر صحت کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں محکمہ صحت غیر کارکرد ہوچکا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے تلگو فلم انڈسٹری سے وابستہ ایکٹرس اور ایکٹریس سے اپیل کی کہ وہ فلم اسٹار سونو سود سے سبق حاصل کریں اور تلنگانہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ سونو سود ہندوستان کے ہر شہر میں کورونا متاثرین کی مدد کررہے ہیں۔ تلگو فلم انڈسٹری کے ہیروز اور ہیروئنس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پرستاروں اور مداحوں کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ سونو سود کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلمی ستاروں کو تلنگانہ میں عوام کی مدد کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ خانگی دواخانوں میں من مانی چارجس وصول کئے جارہے ہیں جبکہ ہائی کورٹ نے خانگی دواخانوں پر کنٹرول کیلئے کمیٹی کے قیام کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے خانگی دواخانوں میں ٹسٹوں کی شرحوں کا تعین کرنے کی حکومت کو ہدایت دی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ چیف سکریٹری سومیش کمار کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کے بارے میں غیر سنجیدہ ہیں۔ چیف سکریٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام محکمہ جات سے بہتر تال میل کے ذریعہ علاج کی سہولتیں فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں آئسولیشن سنٹرس کی کمی ہے جس کے نتیجہ میں حیدرآباد پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔