انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی، صدر تلگو دیشم ایل رمنا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔4۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں اور وعدوں کی عدم تکمیل کے خلاف 5 مارچ کو دھرنا چوک اندرا پارک پر احتجاج منظم کیا جائے گا ۔ صدر تلنگانہ تلگو دیشم ایل رمنا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک روزہ دھرنے میں پارٹی کے تمام سینئر قائدین حصہ لیں گے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور عوام سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ برسر اقتدار آنے کے بعد تلگو دیشم نے حکومت کو انتخابی وعدوں کے بارے میں یاد دہانی کے لئے گزشتہ 7 ڈسمبر میں دھرنا منظم کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ عوامی احتجاج کے باوجود حکومت اپنے موقف پر قائم ہے اور اسے انتخابی وعدوں کی تکمیل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی ترقی اور شہری ترقی کے نام پر شروع کردہ اسکیمات کے ذریعہ حکومت اپنی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزراء اور ٹی آر ایس قائدین عوام کے درمیان پہنچ کر دوبارہ وعدے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی آمدنی کو عوام پر خرچ کرنے میں حکومت کو دلچسپی نہیں ہے ۔ حکومت کو ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے 5 مارچ کو مہا دھرنا منظم کیا جارہا ہے ۔ 2018 ء اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس نے انتخابی منشور کے پانچ اہم وعدوں کی تکمیل کا دعویٰ کرتے ہوئے اپوزیشن کو اہم رکاوٹ قرار دیا تھا جس کے سبب عوام نے دوبارہ اقتدار حوالے کیا۔ پنشن کے لئے عمر کی حد کو 57 کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن آج تک احکامات جاری نہیں کئے گئے ۔ حکومت کے جامع سروے میں 10 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کی نشاندہی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3016 روپئے بھتہ ، کسانوں کے قرض معافی اور غریبوں کو ڈبل بیڈروم مکانات کی فراہمی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ریاست کا بجٹ ایک لاکھ 70 ہزار کروڑ تک پہنچ چکا ہے لیکن حکومت نے دو لاکھ 50 ہزار کروڑ کے قرض حاصل کئے ہیں ۔ رمنا نے کہا کہ شخصی مفادات کی تکمیل کیلئے مرکز میں مودی حکومت کی تائید کی جارہی ہے ۔ رکن پولیٹ بیورو آر چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ 9 لاکھ 61 ہزار طلبہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں حصہ لے رہے ہیں۔ کئی مقامات پر طلبہ کو ہال ٹکٹس جاری نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں والدین بورڈ: آف انٹرمیڈیٹ کے روبرو دھرنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح انٹرمیڈیٹ امتحانات میں بے قاعدگیوں کا اندیشہ پایا جاتا ہے ۔