ٹی آر ایس حکومت 12 فیصد مسلم تحفظات پر کب عمل کرے گی

   


اتم کمار ریڈی کا سوال، انتخابی وعدوں کے بارے میں عوام سے سوال کرنے کی اپیل
حیدرآباد: صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے گریجویٹ رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس اور بی جے پی قائدین سے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے بارے میں سوال کریں۔ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ کو فراموش کردیا گیا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ مسلم تحفظات اور دیگر وعدوں پر عمل آوری کب ہوگی۔ گرایجویٹ اسمبلی حلقوں کیلئے کانگریس امیدوار راملو نائک کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے نلگنڈہ ، سوریا پیٹ اور دیگرعلاقوں میں رائے دہندوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اور مرکز کی بی جے پی حکومت نے عوام کے مسائل میں اضافہ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ ترقی و فلاح و بہبود کو نظر انداز کردیا گیا ۔ کونسل انتخابی مہم کے دوران عوام کو چاہئے کہ وہ بی پی اور ٹی آر ایس امیدواروں سے انتخابی وعدوں کے بارے میں سوالات کریں۔ اتم کمار ریڈی نے کاکتیہ یونیورسٹی میں طلبہ کے اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں کاکتیہ یونیورسٹی طلبہ کے رول کی یاد تازہ کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے دوران جان کی قربانی دینے والے طلبہ کے خاندانوں کی آج تک مدد نہیں کی گئی ہے۔ علحدہ ریاست کے قیام سے صرف کے سی آر خاندان کو فائدہ پہنچا ہے۔ تحریک کے مقدمات سے دستبرداری میں تاخیر کے سبب ہزاروں طلبہ سرکاری ملازمت کیلئے درخواست دینے سے محروم رہے ۔ تعلیم کے شعبہ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم سے متعلق رقومات میں کٹوتی کردی گئی ہے۔ گزشتہ 7 برسوں میں ایک بھی ٹیچر کا تقرر نہیں کیا گیا ۔ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس اور ٹیچنگ اسٹاف کی جائیدادیں خالی ہیں جس کے نتیجہ میں یونیورسٹیز کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے ورنگل کورٹ میں ایڈوکیٹ کے اجلاس سے خطاب کیا اور وکلاء کو درپیش مسائل پر بات چیت کی ۔ انہوں نے وکلاء کی بھلائی کیلئے 50 لاکھ کا انشورنس اور ماہانہ 10,000 روپئے جونیئر وکلاء کو بطور اسٹیفن دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پدا پلی ضلع میں ایڈوکیٹ جوڑے کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی ۔ صدر پردیش کانگریس نے اقلیتوں کے اجلاس سے بھی خطاب کیا ۔ اور کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے ۔ ٹی آر ایس دور حکومت میں اوقافی جائیدادیں تباہ ہورہی ہے ۔سکریٹریٹ کے احاطہ میں دو مساجد اور ایک مندر کو غیر قانونی طور پر منہدم کردیا گیا ۔ عبادتگاہوں کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا ہے۔