اساتذہ کی 20 ہزارجائیدادیں مخلوعہ،جگن موہن ریڈی کے فیصلوں کی ستائش
حیدرآباد ۔ 11۔جون (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کے پانچ سالہ دور حکومت میں تعلیم کا شعبہ بری طرح نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے معاملہ میں حکومت تساہل سے کام لے رہی ہے ۔ اگر حکومت کو تعلیم کے شعبہ کو بہتر بنانے سے دلچسپی ہوتی تو وہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کرتی۔ جیون ریڈی نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں انتخابی وعدوں کی تکمیل کے بجائے سیاسی فائدہ کیلئے اقدامات پر توجہ دی گئی۔ کے سی آر نے نظم و نسق کو فراموش کردیا اور اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو امید تھی کہ انگلش میڈیم میں غریبوں کو کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے گا لیکن کے سی آر نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض اقامتی اسکولوں کے قیام سے بنیادی سطح پر تعلیمی پسماندگی دور نہیں کی جاسکتی۔ جیون ریڈی نے بتایا کہ اساتذہ کی 20,000 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ تعلیمی سال 2019-20 ء کا آغاز ہوچکا ہے لیکن حکومت نے سابق میں منتخب کئے گئے اساتذہ کو بحال کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں جاری تعلیمی سال بھی اساتذہ کی کمی کے ساتھ گزر جائے گا۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے اس بیان کو مضحکہ خیز اور معلومات کی کمی کا نتیجہ قرار دیا کہ طلبہ کی تعداد سے زیادہ اساتذہ موجود ہیں۔ انہوں نے پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی جانب سے شعبہ تعلیم کو بہتر بنانے کے اقدامات کی ستائش کی ۔ جیون ریڈی نے کہا کہ خانگی تعلیمی اداروں میں غریبوں کیلئے 25 فیصد نشستوں کو مختص کرنے کے علاوہ سرکاری مدارس کو بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی طرح جگن موہن ریڈی نے پد یاترا کرتے ہوئے عوامی مسائل سے واقفیت حاصل کی اور عوامی ضروریات کے مطابق اسکیمات تیار کر رہے ہیں۔ جگن موہن ریڈی اپنے والد راج شیکھر ریڈی کے نقش قدم پر قائم ہیں۔ سابق میں آندھراپردیش میں دو ڈی ایس سی منعقد کئے گئے جبکہ تلنگانہ میں ایک بھی ڈی ایس سی منعقد نہیں کیا گیا۔ جگن موہن ریڈی برسر اقتدار آتے ہی سرکاری ملازمین کو عبوری راحت، آر ٹی سی کا حکومت میں انضمام ، تعلیم اور ہاؤزنگ کے شعبہ جات پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کے سی آر پڑوسی ریاست کی حکومت کی کارکردگی دیکھ کر اپنی آنکھیں کھولیں گے ۔ کے سی آر نے اسکیمات کے اعلان کے وقت ملک کی منفرد اسکیمار قرار دیا تھا لیکن عمل آوری صفر کے برابر ہے۔ جیون ریڈی نے جگن موہن ریڈی کے فیصلوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
