ٹی آر ایس رکن اسمبلی بالراجو کو استعفیٰ کا چیلنج مہنگا پڑا

   

سوشیل میڈیا پر استعفیٰ کا دباؤ، فون پر سینکڑوں کال، بالراجو کی مشکلات میں اضافہ

حیدرآباد۔/3 نومبر، ( سیاست نیوز) حضورآباد ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کی شکست کے بعد اگرچہ پارٹی انتخابی مہم میں شریک قائدین سناٹے میں ہیں لیکن اچم پیٹ کے رکن اسمبلی جی بالراجو پر عوام کی جانب سے استعفی کیلئے دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ ضلع ناگرکرنول سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی جی بالراجو نے انتخابی مہم کے دوران ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں حصہ لیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ایٹالہ راجندر کی کامیابی کی صورت میں وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیں گے۔ ٹی وی پر جذبات میں کیا گیا یہ چیلنج بالراجو کو اس قدر مہنگا پڑا کہ ان کی نیند حرام ہوچکی ہے اور انہوں نے آخر کار اپنا فون بند کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ راجندر کی کامیابی کے ساتھ ہی بالراجو کو مسلسل ٹیلی فون کالس شروع ہوگئے جس میں استعفی کے دن اور تاریخ کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ سوشیل میڈیا میں ٹوئٹر، واٹس ایپ اور فیس بک پر بالراجو سے استعفی کی مانگ کی جانے لگی اور ٹی وی ڈیبیٹ کے چیلنج کو بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ بالراجو سے ایک کالر کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو وائرل ہوگئی جس میں بالراجو کو برہمی کے عالم میں کالر سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔ بالراجو سے جب کالر استعفی کے بارے میں سوال کیا تو رکن اسمبلی نے کہا کہ یہ میری مرضی ہے جب چاہے استعفی دوں گا۔ جس پر کالر نے کہا کہ آپ نے راجندر کی کامیابی پر استعفی کا چیلنج کیا تھا جس پر رکن اسمبلی نے کہا کہ پہلے کشن ریڈی، بنڈی سنجے اور دیگر ارکان اسمبلی کو استعفی دینے کیلئے کہیئے اس کے بعد میں استعفیٰ دوں گا۔کالر نے کہا کہ مذکورہ قائدین نے کبھی اس طرح کا چیلنج نہیں کیا تھا۔ کالر اور رکن اسمبلی کے درمیان تلخ مباحث ہوئے جس کے بعد رکن اسمبلی نے فون کٹ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلسل ٹیلی فون کالس سے تنگ آکر رکن اسمبلی نے سیل فون بند کرنے میں عافیت سمجھی۔ باوجود اس کے حضورآباد کے بی جے پی حامی سوشیل میڈیا پر بالراجو کا پیچھا کررہے ہیں۔ر