پسماندہ طبقات کے خلاف ریمارکس پر تنازعہ ، مجالس مقامی کے انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کو مشکلات
حیدرآباد: تلنگانہ میں 7 مجالس مقامی اور گریجویٹ زمرہ کی دو ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات سے عین قبل ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی دھرما ریڈی کے کمزور طبقات کے خلاف کئے گئے ریمارکس نے حکومت اور پارٹی کیلئے مسائل پیدا کردئے ہیں ۔ پرکال کے رکن اسمبلی دھرما ریڈی نے ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز کمزور طبقات کے عہدیدار قابلیت سے محروم ہوتے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ پسماندہ طبقات کی مختلف تنظیموں نے رکن اسمبلی کے ریمارکس پر سخت احتجاج کیا اور ریاست گیر ایجی ٹیشن کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے دھرما ریڈی کو پارٹی سی خارج کرنے اور اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران انسانی حقوق کمیشن نے ورنگل پولیس کمشنر سے اس بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ پولیس کو یکم مارچ سے قبل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ نیشنل ایس سی کمیشن اور تلنگانہ ایس سی کمیشن سے بھی رکن اسمبلی کے خلاف نمائندگی کی گئی۔ تنظیموں نے ایس سی ، ایس ٹی مظالم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری وی جڈسن نے قومی کمیشن جبکہ سابق ایم ایل سی راملو نائک نے تلنگانہ ایس سی کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے رکن اسمبلی کے خلاف ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ دھرما ریڈی نے اگرچہ اس مسئلہ پر معذرت خواہی کرلی ہے لیکن پسماندہ طبقات کی تنظیموں کا احتجاج بدستور جاری ہے ۔ انہوں نے پارٹی کی جانب سے رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ مجالس مقامی کے انتخابات قریب ہیں ، ٹی آر ایس کمزور طبقات بالخصوص ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی کی ناراضگی سے کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔ گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں کے علاوہ ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ کا ضمنی چناؤ بھی قریب ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ اس مسئلہ پر سینئر قائدین سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ تنازعہ کو خوشگوار انداز میں ختم کیا جاسکے۔