یشودھا ہاسپٹل کے خلاف دھاوے ، عنقریب مزید کارروائیاں ،بی جے پی کی تلنگانہ و اے پی پر گہری نظر
حیدرآباد۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ میں حکومت کے قریبی صنعتکاروں اور تاجرین کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے! ریاست میں برسراقتدار پارٹی سے قریبی تعلق رکھنے والے یشودھا ہاسپٹل کے خلاف کی جانے والی انکم ٹیکس کی کاروائی کے بعد یہ کہا جانے لگا ہے کہ ریاستی حکومت کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی سرگرم ہوچکی ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تلنگانہ میں برسراقتدار پارٹی سے قریبی تعلقات رکھنے والے تاجرین ‘ صنعتکارو ںاور اداروں کو نشانہ بنایا جائے۔ یشودھا ہاسپٹل پر کی جانے والی کاروائی میں محکمہ انکم ٹیکس کی 20ٹیموں نے مشترکہ طور پر دھاوا کرتے ہوئے ٹیکس چوری اور مالیاتی دھاندلیوں کی نشاندہی کا عمل شروع کیا ہے اور گذشتہ تین یوم سے یہ کاروائی جاری ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کو دھاوے کے دوران غیر محسوب اثاثہ جات بشکل نقد‘ سونا‘ زیور اور جائیدادوں کے کاغذات حاصل ہوئے ہیں اور دھاوے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔سیاسی گوشوں میں یہ بات گشت کرنے لگی ہے کہ ریاستی حکومت کی مدد کرنے والے یا تلنگانہ راشٹرسمیتی سے قربت رکھنے والے اداروں کے ذمہ داروں کو بی جے پی کی جانب سے نشانہ بنانے کیلئے محکمہ انکم ٹیکس اور ای ڈی کا استعمال کیا جانے لگا ہے اور آئندہ دنوں کے دوران ریاست تلنگانہ میں ای ڈی ‘ ڈی آر آئی اور انکم ٹیکس کے مزید دھاوے کئے جاسکتے ہیں۔دوباک ضمنی انتخابات کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہونے والی عوامی تائید کو دیکھتے ہوئے مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت کی جانب سے اس کاروائی کے الزام عائد کئے جا رہے ہیں۔ بی جے پی ذرائع کا کہناہے کہ تلنگانہ میں حکومت کی سرپرستی میں انجام دی جانے والی بد عنوانیوں کو ختم کرنے کی کوششوں کو سیاسی رنگ دیا جا رہاہے جبکہ محکمہ انکم ٹیکس اپنے طورپر کاروائی کر رہا ہے اس میں بی جے پی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یشودھا ہاسپٹل کے علاوہ پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بھی انکم ٹیکس کی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ دونوں تلگو ریاستوں میں بی جے پی ان لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ ریاستی حکومتوں سے قربت رکھتے ہیں اور ان کے برسراقتدار جماعتوں سے تعلقات ہیں۔تلنگانہ اورآندھرا پردیش میں نکم ٹیکس اور ای ڈی کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تاحال اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی یہ کہا جارہا ہے کہ اس کاروائی میں بی جے پی ملوث ہے۔
