دہلی میں تحقیقاتی ایجنسیوں کی سرگرمیوں پر نظر، سابق بیورو کریٹس اور ماہرین قانون سے مدد، کویتا سے قائدین کی ہمدردی
حیدرآباد۔/24 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکز کی بی جے پی حکومت کی جانب سے ٹی آر ایس قائدین اور بالخصوص کے سی آر خاندان کے ارکان کو تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ نشانہ بنانے کی اطلاعات پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے امکانی کارروائیوں سے بچنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ دہلی حکومت کے شراب اسکام میں چیف منسٹر کی دختر کویتا کے ملوث ہونے سے متعلق بی جے پی کے الزامات کے بعد یہ اندیشہ پیدا ہوچکا ہے کہ سی بی آئی اس معاملہ کی جانچ کے دائرہ میں کویتا کو شامل کرے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے امکانی کارروائیوں کا بروقت پتہ چلانے کیلئے اپنے بعض قابل اعتماد قائدین اور عہدیداروں کو ذمہ داری دی ہے۔ نئی دہلی میں تحقیقاتی ایجنسیوں سے قربت رکھنے والے سابق بیورو کریٹس کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں تاکہ کسی بھی کارروائی سے قبل ہی حفظ ماتقدم کے طور پر قانونی چارہ جوئی اختیار کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا کہ وہ منوگوڑو ضمنی چناؤ کے پیش نظر مرکز کی جانب سے کسی بھی امکانی انتقامی کارروائی سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ نشانہ بنانے کی صورت میں بی جے پی کو فائدہ کے بجائے نقصان ہوگا کیونکہ ٹی آر ایس علحدہ تلنگانہ کے حصول کیلئے جدوجہد کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ دوسری طرف شراب اسکام میں ملوث ہونے سے متعلق بی جے پی کے الزامات کے بعد ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے کویتا سے اظہار یگانگت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ روزانہ بعض وزراء، ارکان مقننہ اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین کی کثیر تعداد کویتا سے ان کی قیامگاہ پہنچ کر ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی کے الزامات کی مذمت کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین کو اندیشہ ہے کہ مرکزی حکومت تحقیقات کے نام پر کچھ بھی کرسکتی ہے۔ قائدین اس بات پر حیرت میں ہیں کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے دہلی میں واضح طور پر کہا کہ لکر اسکام میں کویتا کو تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر مختلف اپوزیشن قائدین سے ربط میں ہیں تاکہ نئی دہلی میں جاری سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کی جاسکے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے بعض بڑے ماہرین قانون سے بھی مشاورت کا عمل جاری ہے۔ سی بی آئی کے دفتر واقع حیدرآباد میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ر