ٹی آر ایس قیادت کا ایٹالہ راجندر کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے پر غور

   

چیف منسٹر چھوٹے سانپ کو بھی بڑی لکڑی سے مارنے کے حق میں ، پارٹی میں مشاورت
حیدرآباد :۔ ٹی آر ایس قیادت وزارت سے برطرف ایٹالہ راجندر کی اسمبلی رکنیت بھی منسوخ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ ریاست کے منی میونسپل انتخابات کے بعد اراضیات پر قبضہ کے الزام میں چیف منسٹر کے سی آر نے ایٹالہ راجندر کو وزارتی صحت کے قلمدان سے علحدہ کرتے ہوئے صحت کا قلمدان اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔ لیکن ایٹالہ راجندر کی جانب سے وزارت سے استعفیٰ نہ دینے پر تحقیقاتی ابتدائی رپورٹ میں قصور وار پائے جانے پر ایٹالہ راجندر کو وزارت سے برطرف کردیا تھا یہ تمام کارروائی بس دیکھتے ہی دیکھتے ہوگئی جس کے بعد ایٹالہ راجندر نے حکومت یا چیف منسٹر کے خلاف کوئی ریمارکس نہیں کیا بلکہ اپنے حلقہ اسمبلی حضور آباد پہونچکر اپنے حامیوں سے مشاورت کی اور شہر حیدرآباد میں کانگریس ۔ بی جے پی کے علاوہ ٹی آر ایس کے ناراض قائدین کے علاوہ مختلف رضاکارانہ تنظیموں اور طلبہ یونین کے قائدین کے ساتھ مشاورت کی ۔ صرف ریاستی وزیر سیول سپلائز گنگولہ کملاکر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے حامیوں کو لالچ دینے اور مختلف مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ ناراض چیف منسٹر کے سی آر نے ایک طرف ایٹالہ راجندر اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف وصول ہونے والی تمام شکایتوں اور الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں ۔ دوسری طرف اسمبلی حلقہ حضور آباد میں ایٹالہ راجندر کو یکا و تنہا کرنے کے لیے ٹی آر ایس کے ٹربول شوٹر ہریش راؤ کو اسمبلی حلقہ حضور آباد کا انچارج نامزد کرتے ہوئے انہیں پارٹی کو مستحکم کرنے اور پارٹی کے عوامی منتخب نمائندوں اور قائدین کو پارٹی میں برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے ۔ باوثوق ذرائع کے بموجب ضلع کریم نگر کے ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے ایٹالہ راجندر کے خلاف کارروائی کرنے کا پارٹی قائدین پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ ایٹالہ راجندر نے اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے ۔ انہیں مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کی اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر اپنے کٹر حامیوں سے مشاورت کررہے ہیں ۔ ضمنی انتخابات میں ایٹالہ راجندر کو شکست دیتے ہوئے انہیں پارٹی کے لیے بننے والے خطرے کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔