ٹی آر ایس میں انضمام پر اسپیکر اورکانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو نوٹس

,

   

اتم کمار ریڈی اور وکرامارکا کی درخواست پر اندرون 4 ہفتے جواب دینے ہائی کورٹ کی ہدایت

حیدرآباد۔/12 جون، ( پی ٹی آئی) ٹی آر ایس نے کانگریس لیجسلیچر پارٹی ( سی ایل پی ) کے انضمام کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ ایک نوٹس پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کو ریاستی اسمبلی کے اسپیکر اور کانگریس کے 12 منحرف ارکان کے نام نوٹس جاری کی ہے۔ کارگذار چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس شمیم اختر پر مشتمل ایک ڈیویژن بنچ نے اسپیکر، سکریٹری اسمبلی اورکانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں اندرون 4 ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سی ایل پی لیڈر ایم بھٹی وکرامارکا اور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر این اتم کمار ریڈی پیر کو ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے درخواست کی تھی کہ تلنگانہ ریاستی مقننہ کے سکریٹری کی طرف سے اسمبلی کے اسپیکر پوچارام سرینواس ریڈی کی ایماء پر جاری کردہ انضمام کے بلیٹن کو معطل رکھا جائے۔ تلنگانہ میں کانگریس کو ایک بڑا دھکہ پہنچاتے ہوئے اسپیکر نے اس کے 12 ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کے ارکان کی حیثیت سے تسلیم کرلیا تھا جس سے چند گھنٹے قبل ان ارکان نے حکمراں جماعت میں اپنے گروپ کے انضمام کیلئے درخواست پیش کی تھی۔ اسپیکر نے اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کی درخواست سے اتفاق کیا تھا کہ ان کی تعداد کانگریس لیجسلیچر پارٹی دوتہائی تعداد پر مشتمل ہے جو انسداد انحراف قانون کے تحت کسی انضمام کیلئے لازمی ہوتی ہے۔ درخواست گذاروں نے یہ استدلال پیش کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا مقننہ پارٹی کے انضمام کا اعلان کرنا اسپیکر اسمبلی کا نہیں بلکہ قانون عوامی نمائندگی کے تحت الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہوتا ہے۔

درخواست کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ بنچ نے اسمبلی کے اسپیکر ، معتمد مقننہ اور کانگریس کے 12 منحرف ارکان کے نام نوٹس جاری کی اور اندرون چار ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ درخواست گذاروں کے وکیل جے روی شنکر نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران ان تفصیلات کا اعلان کیا۔ ہائیکورٹ نے منگل کو اسپیکر اور تلنگانہ لیجسلیٹیو کونسل کے صدرنشین کے علاوہ مقننہ کے دونوں ایوانوں کے سکریٹریز اور دوسروں کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے کانگریس کے 4 ارکان قانون ساز کونسل اور 10 ارکان اسمبلی کے خلاف دائر کردہ 2 رِٹ درخواستوں پر بھی جواب طلب کیا تھا۔ یہ تمام ارکان حکمراں ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کے لیڈر اور سابق رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ڈسمبر 2018 میں یہ درخواستیں دائر کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے چند ارکان کونسل کے انحراف اور ٹی آر ایس میں شمولیت کو چیلنج کیا تھا۔ دوسری رِٹ درخواست وکرمارکا اور اتم کمار ریڈی نے رواں سال اپریل میں دائر کی تھی اور اُن 10 ارکان کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی جنہوں نے اپنی پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان درخواستوں کے ادخال کے بعد کانگریس کے دیگر 2 ارکان اسمبلی بھی حکمراں جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔قبل ازیں اتم کمار ریڈی نے کہا تھا کہ یہ 12 ارکان اسمبلی اجتماعی طور پر ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوئے تھے بلکہ مارچ 2019 کے بعد مختلف موقعوں پر اپنی سیاسی وفاداریوں کو حکمراں جماعت سے وابستہ کرنے کی خواہشات کا اظہار کیا تھا چنانچہ ٹی آر ایس میں کانگریس کے ان ارکان کی شمولیت قانوناً درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کانگریس کی درخواست پر سماعت کے بغیر ہی فیصلہ کرلیا تھا۔