جنوری کے اواخر میں چیف منسٹر کا دورہ متوقع ، متحدہ ضلع نلگنڈہ کے قائدین کے ساتھ کے ٹی آر کا اجلاس
حیدرآباد :۔ حکمران ٹی آر ایس ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔ دوباک ضمنی انتخابات میں شکست اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوسکی ۔ بی جے پی کا مظاہرہ توقع سے بہت زیادہ بہتر رہا ہے ۔ ان نتائج کے بعد ریاست میں بی جے پی کے حوصلے بلند ہوگئے ۔ ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو کانگریس کے سینئیر و طاقتور قائد کے جانا ریڈی سے مقابلہ ہے اگر اس ضمنی انتخاب میں بھی ٹی آر ایس کو شکست ہوتی ہے جہاں بے جان کانگریس میں دم آئے گا وہیں ٹی آر ایس کی ساکھ مزید متاثر ہوجائے گی ۔ ساتھ ہی بی جے پی اور کانگریس حکمران جماعت پر ٹوٹ پڑے گی ۔ اس لیے ٹی آر ایس خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر رہی ہے ۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے متحدہ ضلع نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل ضلع پریشد اور ڈی سی سی بی صدور نشین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے ۔ کانگریس کے امیدوار کے جانا ریڈی سے مقابلہ کرنے کے لیے دوبارہ تلنگانہ جذبہ سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ پانی کے مسائل ، دریائے کرشنا کے پانی کی آندھرا کو منتقلی ۔ 2003 میں کے سی آر کی جانب سے کوداڑ تا ملیہ تک کی گئی پدیاترا کو دوبارہ موضوع بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے حال ہی میں دو اسمبلی حلقوں ناگرجنا ساگر اور مریال گوڑہ کے حدود میں 5 لفٹ اریگیشن پراجکٹس کے لیے منظور کردہ 848 کروڑ روپئے سے بھی فائدہ اٹھانے ، ملیہ میں ڈگری کالج کی منظوری ، ساتھ ہی 254 بھیڑ بکریوں کے یونٹس کو بھی تقسیم کیا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں قائم ہوئے ناگرجنا ساگر میونسپلٹی ، ترکاری ، مٹن مارکٹ دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے منظور کردہ 11 کروڑ روپئے کی اجرائی بھی شامل ہیں ۔ ساتھ ہی چیف منسٹر کے سی آر کا جنوری کے اواخر میں ایک دورہ کراتے ہوئے لفٹ اریگیشن پراجکٹ کا ایک سنگ بنیاد رکھانے کا بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔۔