ٹی آر ایس ‘ پرانے شہر میں مجلس کو شکست دے گی ۔ 12 حلقوں پر کامیابی کا یقین

   

٭ مئیر بھی ہمارا ہوگا اور ڈپٹی مئیر بھی ہمارا ہوگا ۔ کے ٹی راما راو
٭ مجلس سے ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہے ۔ ہم سخت مقابلہ کرینگے
٭ کامیابی حاصل کرنے بی جے پی کے خواب چکنا ہور ہونگے
٭ ٹی آر ایس ورکنگ صدر کی صحافت سے ملاقات

حیدرآباد ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کی دعویدار تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے پرانے شہر پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے ۔ پارٹی کے کارگذار صدر کے ٹی آر نے پرانے شہر سے کم از کم 12 ڈیویژن میں کامیابی کا دعوی کیا ہے اور ساتھ ہی مجلس اور ٹی آر ایس کی دوستی پر رائے عامہ کے مغائر دعوی کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے ۔ ریاستی وزیر و تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے صحافت سے ملاقات پروگرام کے دوران صاف طور پر اعلان کردیا کہ ٹی آر ایس اور مجلس کی کوئی دوستی نہیں ہے بلکہ ٹی آر ایس مجلس کے مضبوط گڑھ پرانے شہر میں مجلس کو شکست دیکر 12 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی جیسا کہ سابق میں 5 ڈیویژن میں کامیاب رہے اور اپنے وجود ثابت کرے گی ۔ ریاستی وزیر کے اس بیان سے ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹی آر ایس بھی اب مجلس سے بدظن ہوگئی اور کسی طرح مجلس سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے ۔ فرقہ پرستی کو ہوادے رہی ہے ۔ بی جے پی کو بھی منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ جس طرح ریاست ہماری ہے شہر بھی ہمارا رہے گا اور مئیر اور ڈپٹی مئیر بھی تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قیام تلنگانہ سے قبل ترقی ماند پڑھنے فرقہ پرستی کا عروج ہونے بے چینی پیدا ہونے کی باتیں کی گئیں اور ٹی آر ایس کو اس کا ذمہ دار بتایا گیا تاہم تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے کے سی آر کی قیادت میں ان تمام دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر دیا ۔ ریاستی وزیر نے ساڑے 6 سال قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے مخالفین کو اپنا محاسبہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ کی عوام میں جھوٹوں اور دھوکہ بازوں کو سبق سکھانے کا ہنر موجود ہے ۔ بی جے پی کے بڑھتے قدم سے پریشان ٹی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے بی جے پی پر فرقہ پرستی کو ہوا دینے اور سماج میں منافرت پھیلانے کا الزام لگایا اور کہا کہ بی جے پی کے ناپاک عزائم کو تلنگانہ راشٹرا سمیتی غرق کردے گی اور ہر حال میں ٹی آر ایس کسی بھی قسم کی بے چینی کو سماج میں برداشت نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی کوئی اپوزیشن نہیں ہے اور بی جے پی کانگریس کی کمزوری کے بعد یہ مقام حاصل کرنا چاہتی ہے جو تلنگانہ میں ممکن نہیں ۔ انہوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی کامیابی کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 6 سال میں شہر پرامن رہا ایک بھی دن کرفیو نہیں ہوا اور نہ ہی جھگڑا فساد اور بے چینی رہی ۔ شہر میں نہ ہی گڑمبا کے ٹھکانے ہیں اور نہ ہی قمار بازی کے اڈے چل رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ سڑکوں پر چھیڑ چھاڑ تک کی کوئی ہمت نہیں کرسکتا ۔ شہر میں تاحال 5 لاکھ ویڈیو کیمرے نصب کئے گئے اور مزید 5 لاکھ نصب کئے جائیں گے ۔ جو ملک میں 65 فیصد حصہ ہے ۔ شہر حیدرآباد دنیا بھر میں محفوظ شہروں کے زمرے میں 16 مقام رکھتا ہے جو ایک اعزاز ہے ۔ آج ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی کی بدولت بین الاقوامی سطح پر سرمایہ داری ہو رہی ہے ۔