کمیشن اور کرپشن کا الزام‘ پراجیکٹ کنٹراکٹرس کیلئے جنت ہے کسان کیلئے نہیں۔ محمد علی شبیرکا بیان
حیدرآباد۔/21 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کے سی آر حکومت کالیشورم پراجکٹ کے نام پر عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تشہیر کے ذریعہ آج پراجکٹ کا افتتاح کیا گیا لیکن صرف دعوؤں کے سوا عوام کو پانی حاصل نہیں ہوا۔ عوامی رقومات کے بھاری خرچ کا الزام عائد کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے اپنے بیان میں کہا کہ کے سی آر نے آندھرا پردیش، اڈیشہ اور مہاراشٹرا سے روابط بہتر بنانے کے نام پر کالیشورم پراجکٹ کے بنیادی حقائق کو عوام سے مخفی رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستیں اس پراجکٹ کیلئے اس وقت راضی ہوئیں جب میڈی گڈہ بیاریج کی بلندی کم کرنے سے تلنگانہ نے اتفاق کرلیا۔ بلندی کم کرنے سے تلنگانہ کے مفادات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی ری ڈیزائننگ کے نام پر اس کی لاگت میں زبردست اضافہ کردیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں 35000 کروڑ کی لاگت سے پراجکٹ کے کام کا آغاز ہوا تھا لیکن یہ لاگت بڑھ کر 82,500 کروڑ ہوگئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت نے رشوت اور کمیشنوں کے ذریعہ پراجکٹ کی لاگت کو ایک لاکھ 20 ہزار کروڑ تک پہنچادیا ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ کالیشورم پراجکٹ کنٹراکٹرس کیلئے جنت ہے کسان کیلئے نہیں۔ انہوں نے 25 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے دعوؤں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے جتنے بھی پراجکٹس کا منصوبہ بنایا ہے اس سے سرکاری خزانہ پر نہ صرف بھاری بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ عوامی رقومات ضائع ہورہی ہیں۔ سکریٹریٹ اور اسمبلی کی نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے 500 کروڑ روپئے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے اپنے لئے 500 کروڑ سے عالیشان پرگتی بھون تعمیر کیا اور 10 کروڑ کی لکثرری کاریں اور عصری سہولتوں سے آراستہ بس تیار کی گئی۔ ارکان اسمبلی کیلئے 150 کروڑ سے کوارٹرس کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے اسمبلی پر 100کروڑ روپئے خرچ کرنے کو رقم ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر حکومت سال بھر میں بمشکل 20 دن اسمبلی اجلاس منعقد کرتی ہے اس رقم کو غریبوں کیلئے 10 ہزار ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نظام کی طرح مختلف افراد میں جاگیرات تقسیم کررہے ہیں۔ انہوں نے فلم ڈائرکٹر این شنکر کو اسٹوڈیو کی تعمیر کیلئے 5 ایکر اراضی مختص کی جو فی ایکر 5 لاکھ روپئے کے حساب سے دی گئی۔ تلنگانہ تحریک میں ان کی حصہ داری کے نام پر یہ الاٹمنٹ کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ ایک طرف شہیدان تلنگانہ کے خاندان اور علحدہ تحریک میں حصہ لینے والے طلباء کو نظرانداز کرتے ہوئے کے سی آر تلنگانہ تحریک کے ثمرات کارپوریٹ گھرانوں اور لینڈ مافیا میں تقسیم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر اہم اُمور پر بھاری رقومات ضائع کی جارہی ہیں جس کے لئے زائد سود سے قرض حاصل کیا جارہا ہے۔ کے سی آر نے ریاست کو 2 لاکھ کروڑ کے قرض میں مبتلاء کردیا ہے جبکہ یہ تشکیل تلنگانہ کے وقت صرف 60 ہزار کروڑ تھا۔ چیف منسٹر عوامی رقومات کو اپنی شہرت کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ بھلائی، ہیلت اور تعلیم جیسے شعبوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ناپاک اتحاد رہا جس کے نتیجہ میں مرکز نے کے سی آر کو چھ ماہ قبل وسط مدتی انتخابات کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تلگودیشم کے ارکان راجیہ سبھا نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور شیوسینا اور جنتا دل سیکولر کا جو حشر ہوا وہی حشر بہت جلد ٹی آر ایس کا ہوگا۔
