ٹی آر ایس کو 30 ایم ایل اے نشستوں کا نقصان ، حیرت انگیز طور پر کانگریس کو فائدہ

,

   

چیف منسٹر کے سی آر کے اعلان کے بعد پارٹی کے ارکان اسمبلی تجسس اور الجھن کا شکار ۔ کئی ارکان کو ٹکٹ سے محرومی کے بھی اندیشے لاحق
حیدرآباد /9 ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاست میں ٹی آر ایس کی عوامی مقبولیت آہستہ آہستہ گھٹ رہی ہے جس کا کئی سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے ۔ سیاسی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف عوامی ناراضگی ہونے کی رپورٹ پیش کی تھی جس کا ٹی آر ایس نے کبھی اعتراف نہیں کیا تھا ۔ ٹی آر ایس قیادت نے ہمیشہ 100 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے پارٹی کیڈر کے حوصلے بلند رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک ہفتہ قبل تلنگانہ بھون میں منعقدہ ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پہلی مرتبہ چیف منسٹر کے سی آر نے انتخابات میں ٹی آر ایس کو 70 تا 80 نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کا دعوی کیا ہے ۔ اس طرح ٹی آر ایس قیادت کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ ریاست میں ٹی آر ایس کو 30 اسمبلی حلقوں کا نقصان ہوگا جس کے بعد ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی میں وہ کون 30 ارکان اسمبلی ہیں جن کو شکست ہوسکتی ہے اس کے بارے میں تجسس پیدا ہوگیا اور تمام ارکان اسمبلی الجھن کا شکار ہیں کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ سے کون محروم ہوگا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ریاست میں ٹی آر ایس کا گراف گھٹتا جارہا ہے ۔ مرکزی بجٹ کی پیشکشی کے بعد فروری میں چیف منسٹر کے سی آر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی آر ایس کو انتخابات میں 95 تا 105 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ جولائی میں ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی کو یقینی قرار دیا تھا ۔ لیکن اب ٹی آر ایس قیادت کو بھی اپنی مقبولیت گھٹ جانے کا اعتراف ہوگیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے ٹی آر ایس مقننہ پارٹی کے اجلاس سے کئے گئے خطاب سے اس کا اندازہ ہو رہا ہے ۔ اسمبلی میں ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کی تعداد 103 ہے تاہم چیف منسٹر نے 23 تا 33 اسمبلی نشستیں کم ہوجانے کا اعتراف کرلیا ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ٹی آر ایس کی عوامی مقبولیت کم ہوگئی ہے ۔ اگر انتخابات مقررہ وقت پر ہوتے ہیں تو ٹی آر ایس کی مقبولیت مزید گھٹ جانے کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ ٹی آر ایس لجسلیچر پارٹی اجلاس میں چیف منسٹر کے سی آر نے ایک طرف تمام موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دینے کا وعدہ کرتے ہوئے دوسری طرف یہ بھی کہہ دیا کہ ٹکٹ حاصل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اگر کارکردگی صحیح نہ ہوتو ٹکٹ سے محروم بھی کیا جاسکتا ہے ۔ جن ارکان اسمبلی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے انہیں ایک دو مرتبہ اس کی نشاندہی کرائی جائے گی باوجود اس کے ارکان اسمبلی کی کارکردگی میں تبدیلی نہیں آئی تو دوسروں کو ٹکٹ دینے کا انتباہ بھی دیا ہے ۔ جس کے بعد ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی الجھن کا شکار ہوگئے ہیں ۔ چیف منسٹر کی فہرست میں منفی رپورٹ وصول ہونے کے بارے میں سوچ کر کئی ارکان پریشان ہیں ۔ چیف منسٹر کے ریمارکس ٹی آر ایس کے حلقوں میں موضوع بحث بن گئے ہیں ۔ ریاست میں ایک طرف کانگریس اور دوسری طرف بی جے پی کی اچانک سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔ بی جے پی کی جانب سے بار بار ٹی آر ایس میں ایکناتھ شنڈے ہونے کا سوشہ چھوڑا جارہا ہے ۔ ریونت ریڈی کے صدر کانگریس بننے کے بعد ریاست میں کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور عوام کانگریس کو ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ کانگریس کے قائدین اضلاع بالخصوص اسمبلی حلقوں میں قیام کرکے عوامی رابطہ بناتے ہوئے ان کے مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ ساتھ ہی راہول گاندھی کی پد یاترا تلنگانہ میں داخل ہونے کے بعد کانگریس کا گراف مزید بڑھ جانے کا دعوی کیا جارہا ہے ۔ ن