حیدرآباد۔/24 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے بی سی کمیشن کی تشکیل میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو بی سی ای زمرہ کے تحت شامل کرتے ہوئے 4 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر شراون نے کہا کہ حکومت نے تلنگانہ بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن کی تشکیل کیلئے جی او ایم ایس 240 جاری کیا جس کے تحت صدرنشین کے علاوہ 3 ارکان شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصولاً حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ کمیشن میں ایک مسلم نمائندہ کو شامل کرتی کیونکہ مسلمانوں کو بی سی ای کا موقف حاصل ہے۔ ہمیشہ کی طرح کے سی آر نے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ شراون نے سوال کیا کہ بی سی ای زمرہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا آخر کیا قصور ہے کہ انہیں کمیشن میں جگہ نہیں دی گئی۔ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں بی سی ای زمرہ کے تحت 4 فیصد تحفظات فراہم کئے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے نزدیک مسلمان ووٹنگ مشین کے علاوہ کچھ نہیں ہیں ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات، وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور، اوقافی جائیدادوں کا تحفظ، اقلیتی فینانس کارپوریشن کو فنڈز کی فراہمی اور غریب مسلمانوں کو قرض کے سلسلہ میں جو اعلانات کئے گئے تھے ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو صرف انتخابات کے وقت مسلمانوں کی یاد آتی ہے اور ان سے وعدے کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کے بعد فراموش کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کے رویہ کو سمجھیں اور آئندہ انتخابات میں مناسب فیصلہ کریں۔ شراون نے کہا کہ دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ کے سی آر کا رویہ غیر ہمدردانہ ہے اور ان کا ہر قدم حضور آباد الیکشن کے پیش نظر ہے ۔R