طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے بعد مجلسی قیادت ہوش میں آئے ، ہنمنت راؤ کا مشورہ
حیدرآباد۔یکم اگست (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے مجلسی قیادت سے سوال کیا کہ آخر ٹی آر ایس کی تائید کب تک جاری رہے گی ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس ایک طرف مسلمانوں سے ہمدردی کا دم بھر رہی ہے تو دوسری طرف مرکز میں بی جے پی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کر رہی ہے۔ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری میں ٹی آر ایس نے اہم رول ادا کیا۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں لیکن ٹی آر ایس اور بعض دیگر نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ووٹنگ سے غیر حاضر رہتے ہوئے بل کی کامیابی میں مدد کی۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ شریعت میں مداخلت سے متعلق بل کی منظوری کے باوجود مجلس کا ٹی آر ایس کی تائید جاری رکھنا باعث حیرت ہے۔ انہوں نے مجلسی قیادت سے سوال کیا کہ شریعت کے معاملہ میں ٹی آر ایس کو کیوں ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کو ٹی آر ایس کی تائید سے ملک بھر کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے لیکن مجلس کے صدر اسد اویسی خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے مجلس کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ٹی آر ایس سے دوستی ختم کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کے غلط فیصلوں کے نت یجہ میں مسلمان اس سے دور ہورہے ہیں جس کا اندازہ بعد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں تعلیمی ادارے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اساتذہ کی کمی کے نتیجہ میں اسکولوں کو بند کیا جارہا ہے لیکن مجلس خاموش تماشائی کا رول ادا کر رہی ہے ۔ وہ دراصل پرانے شہر کے عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا نہیں چاہتی۔ ہنمنت راؤ نے مثال پیش کی کہ رفاہِ عام اسکول جو پرانے شہر کا انتہائی قدیم اسکول ہے، وہاں اساتذہ کی کمی کے سبب طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔