ٹی آر ایس کی رکنیت سازی مہم ، 15 جولائی تک توسیع

   

نشانہ کی تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت ، بی جے پی کی حصول رکنیت میں جوش و خروش پر ٹی آر ایس متفکر
حیدرآباد۔11جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کی رکنیت سازی مہم 15 جولائی تک جاری رہے گی اور اس مہم کے دوران نشانہ کی تکمیل کو یقینی بنانے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیںلیکن اس کے باوجود ریاست کے کئی حلقہ جات اسمبلی میں ٹی آر ایس کی رکنیت سازی مہم میں جوش و خروش نہیں دیکھا جا رہاہے اسی لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے 10 جولائی کو ختم کی جانے والی رکنیت سازی مہم میں 15جولائی تک توسیع فراہم کی گئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں تلنگانہ راشٹر سمیتی سے زیادہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی مہم میں جوش و خروش نے ٹی آر ایس قائدین کو حواس باختہ کیا ہوا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ کارگذار صدرمسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے آن لائن رکنیت سازی مہم کو تیز کرنے کی ہدایت کے باوجود بھی کوئی خاص سرگرمیاں نظر نہ آنے پر پارٹی قائدین مخمصہ کا شکار ہیں ۔ سینیئر پارٹی قائدین کا کہناہے کہ مسز کے کویتا کے رکنیت سازی مہم میں سرگرم حصہ نہ لینے کے سبب تلنگانہ جاگرتی کے کارکن بھی رکنیت سازی مہم سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں اسی طرح مسٹر ٹی ہریش راؤ نے بھی خود کو اپنے ضلع کی رکنیت سازی مہم تک محدو د کیا ہوا ہے اسی لئے پارٹی میں جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں مل رہاہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے ہر حلقہ اسمبلی میں 50ہزار کارکن بنانے کا نشانہ مقرر کیا ہے اور اس میں 40ہزار عام کارکن اور 10 ہزار سرگرم کارکن بنانے کی کی ہدایت دی گئی تھی لیکن ریاست کے بیشتر حلقہ جات اسمبلی سے موصول ہونے والی منفی رپورٹ کے سبب آن لائن رکنیت سازی کو فروغ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جو ش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کوشش کے بھی کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ اضلاع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی مہم بالخصوص فون پر مس کال کے ذریعہ فراہم کی جانے والی رکنیت سازی کے سبب تلنگانہ راشٹر سمیتی کارکن و قائدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی کو آسان تصور کیا جا رہاہے ۔ سال 2014 میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد پارٹی کی رکنیت سازی مہم میں جو جوش و خروش دیکھا گیا تھا اس میں کونسے عوامل کارفرما تھے اس کا جائزہ لیا جارہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ اس وقت عوام میں یہ تاثر پیدا ہورہا تھا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی رکنیت حاصل کرنے پر 2لاکھ روپئے ملیں گے اسی لئے لوگوں نے قطاروں میں کھڑے ہوکر پارٹی کی رکنیت حاصل کی تھی لیکن گذشتہ 5برسوں کے دوران عوام پر یہ بات واضح ہوگئی کہ رکنیت حاصل کرنے پر نہیں بلکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن رہتے ہوئے حادثاتی موت پر ان کے افراد خاندان کو 2لاکھ روپئے حاصل ہوں گے۔