ٹی آر ایس کے ایم ایل سی امیدواروں میں ریڈی طبقہ کا غلبہ

   

وینکٹ رام ریڈی کو 24 گھنٹے میں ایم ایل سی کا تحفہ ،لمحہ آخر میں فہرست میں تبدیلی سے کئی قائدین مایوس
حیدرآباد۔16۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کی 6 نشستوں کے لئے امیدواروں کے اعلان کے بعد ٹی آر ایس کے حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جن 6 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ، اس سے پھر ایک مرتبہ پارٹی پر اعلیٰ طبقات کی برتری واضح ہوچکی ہے جبکہ پسماندہ اور کمزور طبقات کو توقع کے مطابق نمائندگی نہیں دی گئی۔ ٹی آر ایس کے 6 امیدواروں میں 3 کا تعلق ریڈی طبقہ سے ہے جبکہ ویلما ، ایس سی اور بی سی طبقات سے ایک ایک نمائندگی دی گئی۔ ریڈی اور ویلما طبقہ اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتا ہے ، لہذا 6 میں 4 امیدوار اعلیٰ طبقات کے ہیں۔ ایس ٹی اور مسلم طبقات کی نمائندگی سے محرومی کو پارٹی حلقوں میں محسوس کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ دو دن سے امکانی امیدواروں کے سلسلہ میں کئی نام میڈیا میں منظر عام پر آئے لیکن لمحہ آخری میں ایک نئی فہرست جاری کی گئی جس سے متوقع امیدواروں کے طور پر میڈیا میں پیش کئے گئے قائدین کو مایوسی ہوئی ہے۔ پارٹی کے قائدین کو وینکٹ رام ریڈی کی امیدواری پر حیرت ہے کیونکہ کلکٹر کے عہدہ سے استعفیٰ کے اندرون 24 گھنٹے انہیں ایم ایل سی نشست کا تحفہ پیش کیا گیا۔ تلگو دیشم سے شمولیت احتیار کرنے والے ایل رمنا کے علاوہ تلگو دیشم بیاک گراؤنڈ رکھنے والے نرسمہلو اور پدی ریڈی کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ ٹی آر ایس سماجی انصاف کا نعرہ لگاتی ہے لیکن امیدواروں کے انتخاب میں سماجی انصاف کو نظر انداز کردیا گیا ۔ کئی پارٹی قائدین یہ سوال کرتے دیکھے گئے کہ وینکٹ رام ریڈی کا پارٹی اور تلنگانہ تحریک سے کیا تعلق ہے کہ انہیں استعفیٰ کے ساتھ ہی ایم ایل سی نشست کا تحفہ دیا گیا۔ کئی سینئر قائدین ایسے ہیں جو تلنگانہ تحریک میں مقدمات کا سامنا اور جیل کی سزا کاٹ چکے ہیں لیکن انہیں آج تک کسی سرکاری عہدہ میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ ر