ٹی آر ایس ، اپوزیشن پارٹیوں کی بلدی چناؤ کیلئے تیاری

   

۔22 جنوری کو ٹی آر ایس غلبہ برقرار رکھنے کوشاں۔ کانگریس، بی جے پی کیلئے ساکھ بچانے کا موقع
حیدرآباد 2 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) برسر اقتدار ٹی آر ایس اور تلنگانہ میں کانگریس اور بی جے پی کے بشمول اپوزیشن پارٹیاں اِس ماہ کے اواخر مقررہ بلدی چناؤ کے لئے تیاریاں شروع کرچکے ہیں۔ گزشتہ سال جون میں تمام 32 ضلع پریشد سربراہ کے عہدے حاصل کرتے ہوئے دیہی مجالس مقامی چناؤ میں غیرمعمولی فتح درج کرانے کے بعد ٹی آر ایس 22 جنوری کو منعقد شدنی بلدی انتخابات میں اپنے پرفارمنس کا اعادہ کرنے کوشاں ہے۔ صدر ٹی آر ایس اور چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ 4 جنوری کو پارٹی کی وسیع تر میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ پارٹی ذرائع نے آج کہاکہ ٹی آر ایس ایم پیز، ایم ایل ایز، ایم ایل سیز، صدورنشین ضلع پریشد اور ارکان ریاستی عاملہ و دیگر کو اِس میٹنگ کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے فرزند اور ٹی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ریاست میں ٹی آر ایس کی اصل حریف بی جے پی نہیں بلکہ کانگریس ہے۔ ٹی آر ایس بلدی انتخابات جیت کر ریاستی سیاست پر اپنے غلبہ کو جاری رکھنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن کانگریس ریاست میں اپنے اثر و رسوخ کے احیاء کی اُمید لگائے بیٹھی ہے۔ 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں حیران کن شکست کے بعد کانگریس لوک سبھا چناؤ میں 3 نشستیں جیت کر کسی طرح ساکھ بچانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تاہم اسے بڑا جھٹکہ لگا جب 12 ایم ایل ایز گزشتہ سال پارٹی چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ بلدی چناؤ کے لئے تیاری کے تحت صدر پردیش کانگریس این اتم کمار ریڈی نے آج ضلع واری کوآرڈی نیٹرس اور 10 کارپوریشنس کے لئے پی سی سی مبصرین کو بھی مقرر کیا۔ اُدھر بی جے پی لوک سبھا چناؤ میں غیر متوقع کامیابی حاصل کرنے کے بعد جس میں اُسے 4 نشستیں ملیں ، اب شہری مجالس مقامی انتخابات میں بھی معقول مظاہرہ پیش کرنے کوشاں ہے۔ ریاستی صدر بی جے پی کے لکشمن نے آج دعویٰ کیاکہ بی جے پی کی ترقی کے سبب برسر اقتدار ٹی آر ایس کی نیند اُڑ چکی ہے۔