بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات مسترد، آر ٹی سی ہڑتال پر بی جے پی کا دوہرا معیار
حیدرآباد۔ 27 نومبر (سیاست نیوز) سدی پیٹ کے سابق رکن اسمبلی اور صدر ضلع کانگریس سدی پیٹ نرسا ریڈی نے بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ وہ کانگریس پارٹی سے اٹوٹ وابستگی رکھتے ہیں اور سرپنچ سے لے کر رکن اسمبلی تک کانگریس پارٹی کے سبب عوام کی خدمت کا موقع ملا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ دنوں ان کے خلاف منظم انداز میں مہم شروع کی گئی اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ نرسا ریڈی نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ عوامی مسائل پر بی جے پی قائدین ظاہری طور پر کے سی آر حکومت کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں لیکن مرکزی حکومت سے کوئی نمائندگی نہیں کی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے کالیشورم پراجیکٹ میں بے قاعدگیوں اور کرپشن کا الزام عائد کیا لیکن اس کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے مرکز سے نمائندگی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے مسئلہ پر بھی بی جے پی کا دوہرا معیار بے نقاب ہوچکا ہے۔ آر ٹی سی میں مرکز کا 33 فیصد حصہ ہے اور ابھی تک ادارے کو تقسیم نہیں کیا گیا۔ لیکن کے سی آر حکومت یکطرفہ طور پر فیصلے جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بی جے پی قائدین سے سوال کیا کہ آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر مرکز کی بی جے پی حکومت خاموش کیوں ہے۔ نرسا ریڈی نے کہا کہ انہیں بی جے پی میں شمولیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ کانگریس میں رہتے ہوئے عوامی مسائل پر جدوجہد کریں گے۔ ٹی آر ایس میں روڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین کے عہدے سے استعفیٰ دے کر میں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اب بی جے پی میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کا حال دہلی میں دوستی اور گلی میں کشتی کے مماثل ہے۔ دونوں پارٹیاں سیاسی مفادات کیلئے ایک دوسرے کی تائید کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کا تعلق اگرچہ سدی پیٹ ضلع سے ہے لیکن ضلع کی ترقی کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں گجویل اسمبلی حلقے میں کانگریس پارٹی کا پرچم لہرائے گا۔