ٹی آر ایس رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کو شہریت معاملہ پر ہائی کورٹ سے راحت

   

مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات پر حکم التوا، 16 ڈسمبر کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔ 22 نومبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس رکن اسمبلی حلقہ ویملواڑہ سی ایچ رمیش کو آج اس وقت ہائی کورٹ سے راحت ملی جب شہریت کی منسوخی سے متعلق مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات پر عدالت نے حکم التوا جاری کردیا۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے احکامات پر چار ہفتوں کے لیے حکم التوا جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 16 ڈسمبر کو مقرر کی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے جرمنی کی شہریت رکھتے ہوئے ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے سی ایچ رمیش کی ہندوستانی شہریت منسوخ کردی اور احکامات جاری کئے تھے۔ مرکز نے شہریت قانون 1955 کی دفعہ 10 کے تحت سی ایچ رمیش کے خلاف کارروائی کی۔ واضح رہے کہ 2009ء کے اسمبلی انتخابات میں سی ایچ رمیش سے مقابلہ کرنے والے کانگریس کے امیدوار آدی سرینواس نے ان کی شہریت کو چیلنج کرتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ سے شکایت کی تھی۔ سرینواس نے اس مسئلہ کو ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سی ایچ رمیش نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ مرکزی وزارت داخلہ کے زیر غور ہے۔ عدالت نے مرکزی وزارت داخلہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس معاملے کا جائزہ لیں۔ 2010 ء میں ایس کے ٹنڈن کی قیادت میں وزارت داخلہ کے نمائندوں کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ سی ایچ رمیش نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے والدین مجاہد آزادی ہیں اور انہوں نے جرمنی میں تعلیم حاصل کی۔ 1993ء میں انہیں جرمنی کی شہریت حاصل ہوئی۔ کمیٹی نے تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا کہ سی ایچ رمیش کی ہندوستانی شہریت باقی نہیں رہ سکتی۔ 2017ء میں وزارت داخلہ نے سی ایچ رمیش کی شہریت کو ختم کردیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے رکن اسمبلی ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ جاریہ سال جولائی میں ہائی کورٹ نے مرکزی وزارت داخلہ کو اس معاملہ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق 31 اکٹوبر 2009ء کو مرکزی وزارت داخلہ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے 20 نومبر کو 13 صفحات پر مشتمل احکامات جاری کرتے ہوئے ٹی آر ایس رکن اسمبلی کی ہندوستانی شہریت کو رد کردیا۔ مرکزی حکومت کے احکامات کے خلاف رکن اسمبلی دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ جس میں شکایت کی گئی کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 10 جون کو جاری کردہ ہائی کورٹ کے احکامات پر غور نہیں کیا ہے۔ عدالت نے آج مرکزی حکومت کے احکامات پر عبوری حکم التوا جاری کیا۔ مخالف فریق کے وکیل روی کرن رائو نے عدالت سے کہا کہ سی ایچ رمیش نے غلط حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ لہٰذا ان کی ہندوستانی شہریت برقرار نہیں رہ سکتی۔ سی ایچ رمیش کی جانب سے سینئر کونسل ویدولا وینکٹ رمنا نے بحث کی۔ 16 ڈسمبر تک مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا جائے گا۔