ٹی آر ایس کو شکست کا خوف لاحق، پدماوتی ریڈی کی کامیابی یقینی

   

آر سی کنتیا کا دعوی، کانگریس قائدین متحد، بائیں بازو کی ٹی آر ایس کو تائید بے اثر
حیدرآباد۔ 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ آر سی کنتیا نے کہا کہ حضورنگر میں کانگریس پارٹی کا کسی اور سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ٹی آر ایس ہو یا کوئی اور پارٹی اس کی شکست یقینی ہے۔ حضور نگر کے عوام نے کانگریس امیدوار پدماوتی ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے آر سی کنتیا نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس کو شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے جس کا ثبوت سی پی آئی، سی پی ایم اور دیگر پارٹیوں کی دہلیز پر پہنچ کر تائید کی اپیل کرنا ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی میں اختلافات کی تردید کی اور کہا کہ ریونت ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور دیگر تمام قائدین متحدہ طور پر کانگریس امیدوار کے حق میں ہیں اور پدماوتی ریڈی کے نام کا اعلان متفقہ طور پر کیا گیا تھا۔ آر سی کنتیا نے مہاتما گاندھی کے 150 ویں جینتی کے موقع پر شاندار پروگرام منعقد کرنے پر پردیش کانگریس کمیٹی، سٹی کانگریس، یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کے اصول صرف جدوجہد آزادی کے لیے نہیں تھے بلکہ آج اور مستقبل کے لیے بھی اتنے ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ عدم تشدد اور بھائی چارے کا گاندھی جی نے جو پیام دیا تھا دنیا بھر میں اسے اختیار کیا گیا ہے۔ کنتیا نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سیاسی فائدے کے لیے گاندھی جی کے نام کا استعمال کررہی ہے جبکہ وہ گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڑسے کا مجسمہ نصب کرتے ہیں اور مہاتما گاندھی کی تصویر کو گولی مارتے ہیں۔ ایسے نظریات رکھنے والے مہاتما گاندھی کے حقیقی پیرو نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کانگریس پارٹی نے مہاتما گاندھی کے نظریات کو سختی سے اپنایا اور اسے دنیا بھر میں عام کیا۔ حضورنگر کے ضمنی چنائو کا ذکر کرتے ہوئے آر سی کنتیا نے کہا کہ پارٹی کے تمام قائدین متفقہ طور پر مہم چلائیں گے اور پدماوتی ریڈی کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔ پدماوتی ریڈی انتہائی قابل خاتون ہیں جنہوں نے کوداڑ سے منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جس کے سبب منصوبہ بند طریقہ سے انہیں ناکام بنانے کی سازش کی گئی۔ اب جبکہ وہ حضورنگر سے مقابلہ کررہی ہیں، ٹی آر ایس کو شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے۔ سرکاری مشنری اور دولت کے بے دریغ استعمال کے ذریعہ کامیابی کا خواب دیکھا جارہا ہے۔ آر سی کنتیا نے کہا کہ کانگریس پارٹی پوری طرح متحد ہے اور بعض گوشوں میں اختلافات سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس نے 17 نشستوں پر کامیابی کا دعوی کیا تھا لیکن 7 نشستوں پر اسے شکست ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مکمل اکثریت کے باوجود کانگریس کے ارکان اسمبلی کو انحراف کے لیے لالچ دیاگیا۔ اب صرف ایک اسمبلی حلقے کے ضمنی چنائو پر حکومت کی توجہ مرکوز ہوچکی ہے۔ شکست کے خوف سے سی پی آئی، سی پی ایم اور دیگر جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنتیا نے تلنگانہ جناسمیتی سے اظہار تشکر کیا جس نے کانگریس کی تائید کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی اور سی پی ایم بھلے ہی کسی کی تائید کریں اور تلگودیشم امیدوار کھڑا کرے لیکن حضورنگر میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے۔